زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 234

زریں ہدایات (برائے طلباء) 234 جلد سوم کے ارد گرد واقع ہیں علوم و فنون کا گہوارہ ہیں کیونکہ یہ اپنی زبان بول سکتے ہیں تو بے شک مصر بھی علوم وفنون کا گہوارہ ہے۔اس سے زیادہ کیا جہالت ہو سکتی ہے کہ کسی ملک کے اپنی زبان بول لینے سے اسے علوم و فنون | کا گہوارہ کہ دیا جائے۔مصر اور شام اور ایسے ہی بعض دوسرے ملکوں کی زبان ہی عربی ہے۔پس اگر اس لئے کہ یہ ملک اپنی بولی جو ہے ہی عربی بول سکتے ہیں علوم وفنون کا گہوارہ کہلا سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ سرحد اپنی بولی بول لینے کی وجہ سے علوم وفنون کا گہوارہ نہ کہلائے۔پنجاب اور ہندوستان کے گاؤں اپنی اپنی زبانیں بول لینے کے سبب علوم وفنون کا گہوارہ نہ کہلائیں۔اس طرح تو دنیا کا کوئی مقام بھی نہیں ہے جو علوم وفنون کا گہوارہ نہ ہو۔کیونکہ کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں کے لوگ اپنی زبان نہ بول سکتے ہوں۔دنیا میں ہر جگہ کے لوگ اپنے علاقوں کی بولیاں بولتے ہیں لیکن ان بولیوں کے بول لینے سے وہ علوم وفنون کا گہوارہ نہیں ہو سکتے۔پھر مصر کے لوگ تو اپنی زبان بھی غلط بولتے ہیں لیکن ہم ان کے بالمقابل اپنی زبان کو سیح بولتے ہیں۔اور کہاں غلط ہمیں پتہ ہے کہ ہماری زبان کی حرکات کیا ہیں۔ہم اپنی زبان کے محاوروں کو چستی کے ساتھ برمحل استعمال کرنا بھی جانتے ہیں۔لیکن مصری اور عربی اور شامی اپنی زبان کو ہماری طرح صحیح استعمال کرنا نہیں جانتے۔جس طرح ہم اپنی زبان کو درست طور پر استعمال کرتے ہوئے لیکچر دے سکتے ہیں اور گفتگو کر سکتے ہیں وہ اپنی زبان کو صحیح طور پر استعمال کرتے ہوئے نہ لیکچر دے سکتے ہیں اور نہ گفتگو۔دنیا بھر میں اگر کوئی ملک یا کوئی قوم اپنی زبان بھی صحیح طور پر استعمال نہیں کر سکتی تو وہ عرب ہیں۔انگلستان میں چلے جاؤ تو اکثر شہری لوگ اپنی بولی صحیح استعمال کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔اسی طرح ہندوستانی بھی اپنی زبان صحیح بول سکتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں کتاب کا استعمال ہے اور وہاں سند کتاب ہے لیکن ہمارے ملکوں میں ہماری زبان سند ہے۔پس اگر کوئی زبان جو اپنے علاقے میں بولی جاتی ہو کسی کو علوم وفنون کا گہوارہ بناسکتی ہے تو اس کا حق ہم کو ہے نہ کہ ان کو۔کیونکہ وہ تو اپنی زبان بھی درست اور صحیح نہیں بول سکتے اور ہمارا ملک اپنی زبان کو