زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 223
زریں ہدایات (برائے طلباء) 223 جلد سوم کثیر ہیں جن کو میں نے تین نصیحتیں کی ہیں۔پہلی تو میں بھول گیا ہوں۔دوسری یہ کی ہے کہ جماعت کے لوگوں کو چاہئے مرکزی کاموں میں زیادہ دلچسپی لیں۔اور تیسری یہ کہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ اپنی آئندہ نسلوں کی صحت کا خیال رکھیں۔یہ نصیحت کرتے ہوئے میں نے یہ الفاظ کہے ہیں کہ ہماری آئندہ نسلوں کے لئے ہماری نسبت ہزار گنا زیادہ کام در پیش ہے جس کے اٹھانے کے لئے ان کے کندھے اتنے ہی زیادہ چوڑے ہونے چاہئیں۔یہ خواب ایک بہت بڑی بشارت بھی اپنے اندر رکھتی ہے۔اور وہ یہ کہ جب ہماری انگلی پود کام کرنے کے قابل ہوگی تو اُس وقت جماعت لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں تک پہنچ جائے گی۔مگر اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہمیں جسمانی صحت کا بھی خاص طور پر خیال رکھنا چاہئے۔پس صحت کی درستی اور حفظانِ صحت کا خیال روحانیت کے حصول میں سے ایک حصہ ہے۔اگر مستقل طور پر اس کو کام اور اپنا مشغلہ نہ بنا لیا جائے تو روحانی ترقی میں اس سے بہت بڑی مددملتی ہے۔پس یہ ہماری جماعت کے لئے نہایت ضروری ہے۔موجودہ ٹورنامنٹ کا میں نے ایک ہی کھیل دیکھا ہے جس کے متعلق میں خوشی کا اظہار کرتا ہوں کہ ہمارے لڑکوں نے فٹ بال میں بہت ترقی کی ہے۔گو اس کھیل میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کے طلباء دبے رہے ہیں مگر اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کا کھیل اچھا نہیں تھا۔ایک حد تک ان کا کھیل اچھا تھا۔اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے اور جو ایک حد تک معقول ہے وہ یہ ہے کہ ہائی سکول کے طلباء رسہ کشی میں بہت طاقت صرف کر چکے تھے۔کسی حد تک میں اس لئے کہتا ہوں کہ اس ٹیم میں سے پانچ چھ نے ہی رسہ کشی کی تھی۔باقی اس میں شامل نہ تھے اور ان کے لئے یہ کھیل ایسا ہی تھا جیسا مدرسہ احمدیہ کے طلباء کے لئے۔ہاں ایک اور بات ضروری ہے اور ٹورنامنٹ کمیٹی کے لئے یہ بات قابل غور ہے کہ مدرسہ احمدیہ کا کورس 12 سالہ ہے اور ہائی سکول کا دس سالہ۔گو یا دو سال کی زیادتی ہے۔اور بچپن کی عمر میں یہ بڑی زیادتی ہے۔یہاں آئندہ چوتھی ٹیم کالج کی ٹیم بنانی چاہئے جس میں دوسرے کالجوں کے لڑکوں کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔سکول کی ٹیم صرف سکول کے لڑکوں کے ساتھ کھیلے۔میں سمجھتا