زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 222
زریں ہدایات (برائے طلباء) 222 جلد سوم جلسہ تقسیم انعامات احمدی ٹورنامنٹ 29 نومبر 1925 ء کو حمد یہ ٹورنامنٹ کے جلسہ تقسیم انعامات میں حضرت خلیفہ اسمع الثانی نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل نصائح فرمائیں:۔جیسا کہ پہلے دستور چلا آیا ہے انعامات تقسیم کرنے کے بعد میں بعض باتیں بطور نصیحت کہا کرتا ہوں۔لیکن آج انعام تقسیم کرنے سے پہلے ہی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ایک تو اس لئے کہ بوجہ نزلہ چونکہ گلے میں تکلیف ہے اس لئے میں زیادہ نہیں بول سکتا۔اور دوسرے اس لئے کہ انعام لینے والوں کو بھی بعض ہدایات دینا چاہتا ہوں۔ٹورنامنٹ کی غرض یہی ہے کہ ہماری جماعت میں جسمانی صحت اور جسمانی طاقتوں کو ترقی دینے کا خیال پیدا ہو۔اور روحانی ترقیات کے لئے جسمانی صحت کا خیال نہایت ضروری ہے۔مجھے شروع ایام خلافت میں زیادہ کام کی وجہ سے ہر قسم کی ورزش ترک کر دینی پڑی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک دوست دوسرے پر اعتراض کر رہے ہیں کہ وہ ورزش میں وقت ضائع کرتا ہے۔میں نے اعتراض کرنے والے کو سمجھانا شروع کیا۔اُس وقت میرا آخری فقرہ یہ تھا - کہ بعض حالتیں ایسی آتی ہیں کہ جب جسمانی ورزش نہ کرنا گناہ ہوتا ہے۔اس کے بعد جب میری آنکھ کھلی تو میں نے سمجھا یہ تو اپنے آپ کو ہی میں نصیحت کر رہا تھا۔اس کے بعد میں نے ورزش شروع کر دی۔ابھی چند دن ہوئے شاید دس بارہ دن ہوئے ہوں گے میں نے ایک عجیب رویا دیکھی۔میں خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ جامع مسجد بہت وسیع ہے۔اتنی وسیع تو نہیں کہ جہاں تک نظر جاتی ہے مگر بہت وسیع ہے دور تک پھیلی ہوئی ہے۔نمازی بھی بہت