زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 221

زریں ہدایات (برائے طلباء) 221 جلد سوم ہے کہ ہمارا بچہ بہت پڑھ گیا ہے لیکن یہ پڑھنا کوئی پڑھنا نہیں کہ دو ایک جماعتیں پاس کر لیں یا ایک آدھ سیپارہ ختم کر لیا۔میرے پاس عورتیں آتی ہیں اور اپنے بچوں کے متعلق کہتی ہیں کہ ان کی نوکری کا بندوبست کرو۔وہ بہت پڑھ گیا ہے۔لیکن جب پوچھا جاتا ہے کتنا پڑھ گیا ہے تو کہہ دیتی ہیں کہ قرآن شریف فرفر پڑھ لیتا ہے۔اور اگر کسی نے اور زیادہ کہا تو یہ کہہ دیا کہ اردو کی دوسری اور تیسری کتاب پڑھ لی ہے۔مگر یہ کوئی تعلیم نہیں اور نہ اس سے تعلیم حاصل کرنے کا مقصد حاصل ہوتا ہے۔پس تم پڑھو اور خوب محنت کر کے پڑھو۔لیکن ماں باپ کی عزت کرو یہ نہ ہو کہ تم تعلیم حاصل کر کے ماں باپ کی بے ادبی کرنے والے بن جاؤ۔پھر میں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں نماز پڑھو اور اس میں سستی نہ کرو۔دینی کتب پڑھو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھو۔تم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو دس ہیں روپیہ مہینہ کی مٹھائی کھا جاتے ہیں۔اگر تم دوروپے سال کے حساب سے بھی حضرت صاحب کی کتابیں خرید کر ساتھ لے جاؤ تو دس سال میں تمہارے پاس بہت سی کتابیں جمع ہو سکتی ہیں۔ان کتابوں میں علم اور روحانیت کا بہت ذخیرہ جمع ہے جو ہر وقت تمہارے کام آسکتا ہے۔حضرت صاحب کی ساری تعلیم ان کتابوں میں موجود ہے۔پس تم ان کو پڑھو کہ یہ بہترین استاد ہیں۔تعداد کے لحاظ سے یہ صیحتیں گو تھوڑی ہیں لیکن عمل کے لحاظ سے بہت ہیں۔ان پر عمل کرو اور اس کے بعد کچھ دعا کر لو تا خدا تم پر بھی اور تمام دوسرے لوگوں پر بھی رحم فرمائے اور مدد کرے۔“ (الفضل 18 /اگست 1925ء) 1 السيرة الحلبية جلد 1 صفحہ 466 مطبوعہ بیروت 2012 ء الطبعة الأولى 2: الفاتحة: 5 3 رمبا گھر پا ( تنویر اللغات پنجابی اردو صفحہ 552 ناشر ایور نیوبک پیلس اردو بازار لاہور ) :4 كنز العمال جلد 16 صفحہ 461 حدیث 45439 مطبوعہ دمشق 2012ء الطبعة الأولى