زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 220

زریں ہدایات (برائے طلباء) 220 جلد سوم بہت کم پائی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک ہندو کا قصہ سنایا کرتے تھے۔اس نے جو کچھ کہ اس کے پاس تھا خرچ کر کے اپنے لڑکے کو پڑھوایا اور سمجھا کہ اس کی کمائی کھاؤں گا۔وہ لڑ کا تعلیم پا کر ڈپٹی ہو گیا۔ایک دفعہ اس کا باپ اس سے ملنے گیا۔ہند و غلیظ تو ہوتے ہی ہیں اور پھر پرانے زمانہ کے ہند و تو غلیظ ہونے میں مشہور ہی تھے۔اور پھر ان میں سے بھی جو غریب آدمی ہوں ان کی غلاظت تو حد سے بڑھی ہوتی ہے۔اس ڈپٹی کے باپ کے کپڑے بھی میلے کچیلے اور غلیظ تھے۔پگڑی، گر تا سب گندہ دھوتی بھی پھٹی پرانی اور میلی۔جسے چکناہٹ نے اور بھی بدبودار کر دیا تھا۔باپ جس نے بڑی محنت سے اور سب کچھ خرچ کر کے اسے پڑھایا تھا اس حالت میں اسے ملنے گیا اور اندر جا کر ایک کرسی پر جا بیٹھا۔آجکل تو لوگ ڈپٹی کو معمولی سمجھتے ہیں لیکن پچاس سال پہلے ڈپٹی ایک اچنبھا ہوا کرتا تھا۔لوگ اسے دیکھنے آیا کرتے تھے۔اگر ڈپٹی صاحب کا گزر کسی گاؤں سے ہو جاتا تو ارد گرد کے دیہات کے لوگ بھی دیکھنے کے لئے جمع ہو جاتے کہ دیکھیں ڈپٹی کیا ہوتا ہے۔ان کے نزدیک ڈپٹی شاید انسان نہیں رہتا تھا بلکہ انسان سے بڑھ کر کچھ اور ہو جاتا تھا۔اُس زمانہ میں جب اس ڈپٹی کا باپ اسے ملنے آیا تو اس وقت اس کے پاس کو کے رؤساء اور امراء اور عمائدین بیٹھے تھے اور اور دوست یار بھی اس کے جمع تھے۔اس کے میلے کچیلے اور گھن دار کپڑے دیکھ کر ان کو بہت کراہت پیدا ہوئی۔اور کسی نے کہہ دیا یہ کون ہے جو یہاں آگھسا ہے؟ یہ سن کر ڈپٹی صاحب نے سوچا یہ کہنے میں میری ہتک ہوگی کہ میرا باپ ہے اس لئے اس نے کہہ دیا کہ یہ ہماراہلیا ہے۔چونکہ اس نے مجھے بچپن میں کھلایا ہے اس لئے بے تکلف ہو گیا ہے۔یہ سن کر اس کے باپ نے گالی دے کر بتایا کہ میں اس کا باپ ہوں۔اس پر لوگوں نے ڈپٹی صاحب کو ملامت کی اور بجائے عزت کے ذلت کرنی شروع کر دی۔تو بچو تم خواہ کسی حالت میں ہو جاؤ ماں باپ کی عزت ہمیشہ ملحوظ رکھو اور ان کے احترام میں فرق نہ آنے دو۔بچہ جب پڑھ کر جاتا ہے تو بات بات پر اپنی لیاقت جتاتا ہے۔ماں ان پڑھ ہوتی ہے اب وہ کیا جانے زمین گول ہے یا چپٹی۔وہ جب بچہ سے کئی باتیں سنتی ہے تو رعب میں آجاتی ہے اور جھتی