زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 212

زریں ہدایات (برائے طلباء) 212 جلد سوم نہ کی اور جو کام کرنے کا اس نے ارادہ کیا تھا اسے کر کے چھوڑا۔ایک اور مثال بھی ایسی ہے اور میں اس کے بیان کرنے سے رہ نہیں سکتا۔وہ مشہور مثال ہے جو نپولین کے متعلق ہے۔نپولین کو رسی کا (Corsica) کا رہنے والا تھا۔جس طرح آجکل ہندوستان انگریزوں کے ماتحت ہے اسی طرح جزیرہ کو رسی کا فرانس کا مقبوضہ تھا۔اور فرانس ہی کا قانون وہاں چلتا تھا۔اور جس طرح انگریز ہندوستانیوں کو محکوم ہونے کے سبب حقیر و ذلیل سمجھتے ہیں اسی طرح فرانسیسی بھی کو سیکن کو حقیر و ذلیل سمجھتے تھے۔نپولین ایک غریب کا لڑکا تھا۔مگر چھوٹی عمر میں ہی مصنوعی ہتھیاروں سے کھیلا کرتا تھا۔وہ اصلی ہتھیار تو بہم نہیں پہنچا سکتا تھا اور نہ ہی اس کی عمر اتنی تھی کہ وہ ان کے ساتھ کھیلتا۔اس لئے وہ لکڑی یا کسی اور چیز سے اسی وضع قطع کے ہتھیار بنالیتا اور ان کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔اس نے لکڑی کی ایک چھوٹی سی تلوار بنائی ہوئی تھی جسے وہ ہمیشہ اپنے ساتھ لٹکائے رکھتا تھا۔حتی کہ سکول بھی جاتا تو اسے اپنے ہمراہ لے جاتا۔فرانس کے لڑکے اس پر مہنتے اور اسے Little Corsican ”چھوٹا کو سیکن حقیر کو سیکن" بزدل کورسیکن" کہا کرتے تھے۔جس کا مطلب یہ تھا کہ ملک تو تمہارا غلام ہے اور تم یوں تلوار لٹکائے پھرتے ہو۔مگر وہ خاموش رہتا۔اور جب فرانسیسی لڑکے اسے بہت تنگ کرتے دس دس بارہ بارہ مل کر اس کے پیچھے پڑ جاتے۔تو ان لڑکوں کا شاید یہ خیال ہو کہ نپولین یا تو رو پڑے گا یا اگر ہم سے الجھ پڑا تو مار کھائے گا۔وہ ان باتوں میں سے کوئی بھی نہ کرتا اور چلتے چلتے پلٹ کر یہ کہہ دیتا۔بزدل میں ہوں کہ تم۔جو دس بارہ میرے پیچھے پھر رہے ہو۔ٹھیک ہے میں ہی بزدل ہوں۔آخر کار وہی Little Corscan جسے فرانس کے لڑکے ”چھوٹا کورسیکن بزدل کورسیکن حقیر کورسیکن“ کہتے تھے سارے ملک کا بادشاہ ہو گیا بلکہ شہنشاہ بن گیا۔پس یہ مت خیال کرو کہ تم کچھ کر نہیں سکتے۔یہ خیال انسان کو تباہ کر دیتا اور نا کارہ بنا دیتا ہے۔تم اس خیال کو پاس بھی نہ پھٹکنے دو کہ تم کچھ کر نہیں سکتے۔بلکہ ہر وقت یہی سمجھو کہ تم سب کچھ کر سکتے ہو۔لیکن خدا کی مدد و نصرت کے ساتھ۔پس ہر وقت اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ 2 | پر دھیان رکھو کہ اے مولا! تیری بندگی تو کر سکتے ہیں لیکن تیری مدد کے ساتھ۔اور ہر حال میں اسی