زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 211

زریں ہدایات (برائے طلباء) 211 جلد سوم کہ سکول کے بعد دو گھنٹہ ٹھہر کر کام کرو۔چنانچہ اس دن اس نے دو گھنٹے زائد کام کیا۔جب اسے بھی چھٹی ہوئی تو شام کا وقت تھا جغرافیہ پڑھنے والے لڑکے جانتے ہیں ہالینڈ کا ملک سطح سمندر سے نیچا ہے اس لئے سمندر کی طرف بند باندھے ہوئے ہیں۔اگر وہ بند ٹوٹ جائیں تو سمندر کا پانی ملک میں آجائے اور سب کچھ تباہ ہو جائے۔اسی خطرہ کی وجہ سے اس ملک کے لوگوں نے گھروں میں کشتیاں رکھی ہوئی ہیں تا کہ جب طوفان آئے یا بند ٹوٹ جائے تو اپنے آپ کو بچا سکیں۔سکول جانے کے لئے اس بند کے اوپر سے راستہ گزرتا تھا۔یہ لڑکا شام کو جب اسے چھٹی ہوئی گھر آنے کے لئے بند کے اوپر سے آرہا تھا تو اسے ایک جگہ کچھ بلبلے سے اٹھتے دکھائی دیئے جو ہند کے ساتھ اٹھ رہے تھے اور بہت باریک سوراخ نظر آیا۔یہ کھڑا ہو کر اسے دیکھنے لگا۔مگر اس کے دیکھتے دیکھتے وہ سوراخ اور بڑا ہو گیا۔اب وہ سوچنے لگا کہ اگر میں گاؤں میں جا کر لوگوں کو اطلاع دیتا ہوں تو یہ اور بھی بڑا ہو جائے گا اور ممکن ہے بند ٹوٹ ہی جائے۔اس لئے اس نے خود اس کے بند کرنے کی کوشش کی مگر کارگر نہ ہوئی۔آخر اس نے اپنی انگلی اس میں ڈال دی مگر تھوڑی دیر میں وہ سوراخ ہاتھ کے برابر ہو گیا۔پھر اس نے اپنا بازو ڈال دیا۔اور اسی طرح وہ پانی کو رو کے رہا۔اتفاق ایسا ہوا کہ کوئی شخص ادھر نہ آیا۔لیکن وہ اس سے گھبرایا نہیں اور بدستور اس کو بند کئے کھڑا رہا۔حتی کہ رات ہوگئی وہ پھر بھی نہ گھبرایا اور اسی طرح اسے بند کئے رہا۔صبح کے وقت ایک چرواہا ادھر آیا۔چرواہے کی جب ادھر نظر پڑی تو اس نے سمجھا کہ کوئی مردہ پڑا ہے کیونکہ سخت سردی تھی۔وہ لڑکا ٹھٹھر گیا تھا۔جب وہ اس کے قریب آیا تو لڑکے نے بڑی مشکل سے اسے بتایا کہ بند ٹوٹا ہوا ہے اس کی مرمت کرو۔اس پر اُس چرواہے نے شور مچایا اور لوگوں کو جمع کر کے اس سوراخ کو بند کر دیا۔اس طرح اس لڑکے نے اپنے علاقے کے لوگوں کی جان بچائی۔کتنے بچے ہیں جو اس طرح کے کام کرتے ہیں یا کتنے بچے ہیں جنہیں ایسی باتوں کو دیکھ کر اس قسم کے کاموں کا احساس پیدا ہوتا ہے۔بچوں کو چاہئے کہ کام کرنے کا عزم پیدا کریں۔اور پھر موقع اور محل کو دیکھ کر اس کے مطابق کام کرنے کی ہمت دکھا ئیں۔یہ اتفاقی بات تھی کہ وہ بیچ گیا اور نہ وہاں سردی اتنی سخت ہوتی ہے کہ انسان ہلاک ہو جاتے ہیں مگر اس نے اس کی کچھ پرواہ