زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 210

زریں ہدایات (برائے طلباء) 210 جلد سوم سے وہ لشکر نہ جاسکا۔پھر حضرت ابو بکڑ نے اسے سر لشکر مقرر کر کے رومیوں کے مقابلہ پر بھیج دیا۔رومیوں کی طاقت بڑی زبردست تھی اس لئے ادھر سے جو بھی لشکر گیا وہ بڑا بھاری تھا۔جس میں بڑے بڑے صحابہ حتی کہ حضرت عمرؓ اور حضرت علی بھی شامل تھے۔اسامہ کی عمر اُس وقت ہیں سال کی تھی لیکن انہوں نے بڑی دانائی اور دلیری کے ساتھ لشکر کی کمان کی اور رومیوں کے لشکر کا مقابلہ کیا اور ان کو شکست دی۔ابن ابی لیلیٰ چونکہ تاڑ گئے تھے کہ یہ لوگ مجھ پر طنز کر رہے ہیں اس لئے انہوں نے کہا میری عمر اسامہ سے دو سال بڑی ہے۔جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں سال کی عمر میں اسامہ اتنے بڑے لشکر کی کمان کر سکتا ہے اور رومیوں جیسے دشمن کو شکست دے سکتا ہے تو ابن لیلی بھی جو اسامہ سے دو سال بڑا ہے کو فیوں پر حکومت کر سکتا ہے اور ان کو درست کر سکتا ہے۔یہ سن کر وہ چپ ہو گئے اور سمجھ گئے کہ اس کا مقابلہ آسان نہیں۔چنانچہ جتنا عرصہ وہ وہاں رہے کسی نے سر نہ اٹھایا اور انہوں نے نہایت دلیری اور عقلمندی سے کام کیا۔اور ان کی قضاء کے واقعات اتنے مشہور ہیں کہ انگریزوں کے ملک میں بھی ان کی قضاء کے قصے بعض ریڈروں میں بھی درج ہیں۔یورپ کے لوگ حضرت عمر اور حضرت ابو بکر کو اتنا نہیں جانتے جتنا ابن ابی لیلیٰ کو جانتے ہیں۔غرض جتنا عرصہ وہ کوفہ میں رہے ان کے سامنے کوئی نہ آیا۔یہ اس قسم کے واقعات ہیں کہ ان سے سبق سیکھنا چاہئے۔اور بچوں کو چاہئے کہ ابھی سے اپنے اندر یہ احساس پیدا کریں کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں ورنہ وہ بڑے ہو کر بھی کچھ نہ کرسکیں گے۔انگریزی کے ریڈروں میں ہالینڈ کے ایک لڑکے کا حال بیان کیا گیا ہے جو ایک غریب عورت کا بیٹا تھا۔اسے اکثر اوقات گھر کے کام کاج کے سبب سکول میں جانے سے دیر ہو جاتی تھی جس پر اسے استاد مارتے بھی تھے۔مگر جب اسے مار پڑتی یا کوئی اور سزا ملتی تھی تو اگر چہ وہ گھر کے کام کو بطور عذر پیش تو کر سکتا تھا لیکن وہ سوچتا کہ سکول کے لئے یہ کوئی جواب نہیں اس لئے چپ ہو رہتا۔اور ماں سے بھی کچھ نہ کہتا کیونکہ وہ شریف اور فرمانبردارلر کا تھا۔ایک دن اسی وجہ سے ماسٹر نے اسے کہا تم بہت شریر ہو اور روز دیر کر کے آتے ہو آج تمہیں یہ سزادی جاتی ہے