زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 209
زریں ہدایات (برائے طلباء) 209 جلد سوم مخالفت بھی تھی۔اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس راہ میں مصیبتیں اور تکلیفیں ہیں۔لیکن باوجود اس کے انہوں نے یہ کہا کہ میں مدد کروں گا اور پھر آئندہ عمر میں اسے پورا بھی کر دکھایا۔چنانچہ ہر خطرہ اور ڈر کے موقع پر انہوں نے اپنے آپ کو پیش کیا۔اور یہ سب اس احساس اور عزم کا نتیجہ تھا جوان میں بچپن میں پیدا ہوا تھا۔پس یاد رکھو عمر کوئی چیز نہیں نیست چیز ہے۔جب انسان نیت کر لے تو پھر سب کچھ کر سکتا ہے۔عمر خواہ چھوٹی ہو خواہ بڑی پھر وہ کسی کام کے کرنے سے ہر گز نہیں جھجکتا۔خلفائے کرام کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ کوفہ کے لوگ بڑے شورش پسند تھے۔ہر وقت شرارتیں کرتے رہتے تھے اور گورنروں کو تنگ کر کے نکال دیتے تھے۔قاضیوں کو بھی تنگ کیا کرتے تھے۔اس وجہ سے حضرت عمرہ کو بار بار قاضی اور گورنر بدلنے پڑتے تھے۔آخر حضرت عمرؓ نے کہا اب میں ایسا آدمی بھیجوں گا وہ سیدھے ہو جائیں گے۔چنانچہ انہوں نے بائیس سال کی عمر کے ایک نوجوان ابن ابی لیلی کو بھیج دیا۔اہل کوفہ نے سمجھا کہ خلیفہ وقت نے جو یہ گورنر بھیجا ہے تو شاید ہنسی کی ہے۔ہم بھی اس سے تمسخر ہی کریں۔اس خیال سے رؤسا اور عمائدین سب لوگوں کے قائم مقام بن کر شہر سے باہر استقبال کے لئے آئے اور باتوں باتوں میں پوچھا آپ کی عمر کیا ہے؟ یہ انہوں نے طنزاً کہا کیونکہ اس سے ان کی یہ غرض تھی کہ ان کو جتا دیں کہ یہاں تو بڑے بڑے معمر اور تجربہ کار آدمی بھی نہیں ٹھہر سکے اور آپ تو ابھی بچہ ہیں۔آپ کی کیا حقیقت ہے کہ ٹھہریں گے اور کچھ کر سکیں گے۔اگر کوئی سیدھا سادھا لڑکا ہوتا تو کہہ دیتا میں بائیس سال کی عمر کالڑکا ہوں۔مگر ابن ابی لیلیٰ اس بات کو تاڑ گئے کہ یہ طنز کر رہے ہیں۔اور پھر ایسا دندان شکن جواب دیا کہ وہ سمجھ گئے اس کا مقابلہ آسان نہیں۔الله۔آنحضرت ﷺ کے وقت اسامہ بن زیڈ ایک نوجوان صحابی تھے جو حضرت زید کے بیٹے تھے۔حضرت زید غلام ہو گئے تھے مگر آنحضرت ﷺ نے ان کو آزاد کر دیا تھا اور اپنے پاس رکھ لیا۔تھا۔جن سے آپ کو بہت محبت تھی۔وہ ایک لشکر کے سردار مقرر کئے گئے۔جب وہ مارے گئے تو اس لشکر کی سرداری آنحضرت ﷺ نے ان کے بیٹے اسامہ کو دی۔لیکن آپ کی وفات کی وجہ