زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 16
زریں ہدایات (برائے طلباء) 16 جلد سوم ہوتی ہے اور وہ دوسروں کی مدد لینے سے حتی الامکان پر ہیز کرتے ہیں۔لیکن آنحضرت ﷺ کی نسبت کہا جاتا ہے کہ آپ حضرت مسیح کو اپنی مدد کے لئے بلائیں گے اس سے سمجھ لو کہ آپ کی کس قدر ہتک ہوتی ہے۔ہاں آپ کے خدام میں سے اگر کوئی آپ کی امت کی اصلاح کے لئے کھڑا ہو جائے تو یہ آپ کی عزت کا موجب ہوگا۔کیونکہ نوکر کا کام دراصل اس کے آقا کا ہی کام ہوتا ہے لیکن حضرت مسیح کو زندہ ماننا اور آنحضرت ﷺ کی امت کی اصلاح کے لئے لانا آنحضرت علی کی بھی ہتک ہے اور خدا تعالیٰ کی بھی اور پھر حضرت مسیح کی بھی۔کیونکہ آنحضرت ا الا اللہ خواہ کتے ہی بڑے نبی ہوں مگر حضرت مسیح نے اپنے طور پر نبوت پائی تھی لیکن ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہیں ایک امتی کے درجہ پر رکھا جائے گا گویا انہیں اتنے سال رکھنے کا یہ بدلہ ملے گا۔تو اس عقیدہ سے ان سب کی ہتک ہوتی ہے پھر ان کو صحیح اور درست کس طرح کہا جاسکتا ہے۔اسی طرح نبوت کا مسئلہ ہے۔اس میں بھی دیکھ لو اگر امت محمدیہ میں سے کوئی نبی نہ ہو تو اس میں رسول کریم ﷺ کی ہتک ہے یا اگر ہو تو بہتک ہے؟ آپ کی امت میں نبی نہ ہونے کے تو گویا یہ معنی ہیں کہ آپ کی امت میں کوئی کامل فرد نہ ہوگا۔یہ بات اگر سچ ہے اور ضرور سچ ہے کہ نبی کا درجہ امتی سے بڑا ہوتا ہے تو ماننا پڑے گا کہ امت محمدیہ میں سے کسی کو بھی وہ درجہ حاصل نہیں ہوا جو پہلی امتوں کے لوگوں کو ہوا کرتا تھا۔پہلی قوموں کے بگڑنے اور خراب ہونے پر ان کے لئے نبی آتے تھے مگر رسول کریم جو سب سے بڑے اور عالی شان نبی ہیں ان کی امت کی اصلاح کے لئے کہا جاتا ہے کہ کوئی نبی نہیں بھیجا جائے گا۔یہ مانا کہ پہلی امتوں میں جو نبی آئے تھے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتے تھے نہ کہ کسی نبی کے وسیلہ سے مگر یہ تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ انہیں نبی کی اطاعت نبوت کے انعام کی مستحق ضرور بنا دیتی تھی اس لئے مانا کہ وہ نبوت پانے میں کسی کے شاگرد نہیں ہوتے تھے مگر انہیں اپنی امت کے نبی سے تعلیم ایسی حاصل ہو جاتی تھی کہ وہ نبوت کے مدرسہ میں داخل ہونے کے قابل ہو جاتے تھے مگراب رسول کریم ہے کی امت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس میں کوئی نبی نہیں ہوسکتا اور کہتے ہیں کہ ہمارے رسول کریم میے صلى الله