زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 201

زریں ہدایات (برائے طلباء) 201 جلد سوم سپرٹ پیدا کریں مگر برادرانہ مقابلہ کی۔بھائی سے بھائی کے مقابلہ کی طرح یا خاوند سے بیوی کے مقابلہ کی طرح۔ایسا ہی مقابلہ جیسا ایک دفعہ رسول کریم ﷺ اور حضرت عائشہ نے کیا تھا۔آپ فرماتی ہیں ایک دفعہ میں دوڑنے میں رسول اللہ ﷺ سے آگے نکل گئی اور ایک دفعہ آپ 1 اسی مقابلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے افسوس ہے کہ ہائی سکول کے طلباء نے کم انعام حاصل کیے ہیں۔تعداد کے لحاظ سے تو شاید اتنے کم نہ ہوں مگر مجموعی حیثیت سے جو انعامات ہیں مثلا فٹ بال، ہاکی کے ان میں مدرسہ احمدیہ کے طلباء بڑھ گئے ہیں۔گو میں پسند کرتا ہوں کہ وہ انعامات حاصل کرتے کیونکہ ان کی طرف لوگوں کی توجہ کم ہے اور وہ عموماً غرباء کے بچے ہیں اور میرے اپنے بچے بھی اسی سکول میں پڑھتے ہیں مگر باوجود اس کے مجھے تکلیف ہوئی ہے میں امید کرتا ہوں کہ ہائی سکول کے استاذ آئندہ اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔اس ٹورنامنٹ سے ہمارے مدنظر ایک یہ بات بھی ہے کہ آئندہ کے لیے لڑکوں کا کیریکٹر تیار کریں۔جو شخص ادنیٰ سے ادنی اور چھوٹی سے چھوٹی چیز میں اپنا کیریکٹر تیار نہیں کرتا وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔فٹ بال یا ہا کی کھیلتے ہوئے جو طالب علم یہ سمجھتا ہے کہ مجھ سے بال ( گیند ) نکل گیا تو کیا ہوا کل اگر اس کے قبضہ سے ملک بھی نکل گیا تو اسے کچھ محسوس نہ ہوگا۔بڑے بڑے کاموں میں بھی وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ جو بھی ذمہ داری اس پر ڈالی جائے اسے پورا کرنا اس کا فرض ہے۔اگر کوئی بال اس سے مس (Miss) ہو جاتا ہے جسے و پیچ (Catch) نہیں کر سکتا لیکن وہ آئندہ زیادہ چستی سے کام نہیں لیتا تو اپنی زندگی تباہ کرتا ہے کیونکہ اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ کسی بڑی ناکامی کا بھی اس پر کچھ اثر نہ ہوگا۔میں یہ نہیں کہتا کہ کھیلوں میں مقابلہ کرتے وقت ایک دوسرے سے بغض اور حسد پیدا ہو مگر یہ ضرور کہتا ہوں کہ اپنی ذمہ داری کا پورا احساس ہو۔جس کام پر کسی کو مقرر کیا جائے اس کے متعلق کسی قسم کی تکلیف کا احساس | نہیں ہونا چاہئے اور نہ اسے معمولی بات سمجھنا چاہئے۔اس کے متعلق اسی طرح احساس ہونا چاہئے جس طرح کسی ملک کو فتح کرنے کے متعلق ہوتا ہے۔اگر تم اس طرح کرو گے تو نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنی قوم اور دین کے لئے بھی مفید ثابت ہو گے۔وہ