زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 195

زریں ہدایات (برائے طلباء) 195 جلد سوم اعلیٰ درجہ کے اردو لٹر پچر کے مطالعہ کی اہمیت طلباء مدرسہ احمدیہ نے مولوی فاضل کلاس کے اعزاز میں ایک دعوت کا اہتمام کیا۔اس موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔مدرسہ احمدیہ جس کی بنیاد ابتداء حضرت مولوی عبدالکریم سیالکوٹی صاحب مرحوم کی وفات پر ان کی یادگار کے طور پر قائم کی گئی تھی اور اسی طرح مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کی اسے یاد گار قرار دیا گیا تھا اور بعد میں اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یاد گار قرار دیا گیا۔کیونکہ در حقیقت ہمارا تبلیغی مدرسہ اور کالج بہترین یادگار اُسی انسان کی ہو سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس کام کے لئے کھڑا کیا اس کی تعلیمی تاریخ کے کئی دور گزرے ہیں اور ہم جن حالات میں سے گزر رہے ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف اوقات میں تغیر کا پیدا ہونا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔پہلے پہل اس مدرسہ میں ایسے رنگ میں کورس رکھا گیا جس میں پرانی کتب مروجہ کو جاری کیا گیا تھا۔پھر اس میں تغیر ہوا اور زیادہ تر اس کی بنیاد درس نظامیہ پر رکھی گئی۔کچھ عرصہ کے بعد پھر تغیر ہوا اور یہ ضروری سمجھا گیا کہ نئے طریق کی طرف تعلیم کو پھیرا جائے اور مصر کی بعض جدید کتب کو رکھا جائے۔لیکن اس میں بھی کورس کی کتابیں اتنی زیادہ رکھی گئیں کہ تعلیم مقررہ وقت میں ختم نہ ہو سکتی تھی۔سال گزرجاتا مگر کورس کا معتد بہ حصہ باقی رہ جاتا۔اس میں شبہ نہیں کہ کورس مقرر کرنے میں مدرسوں کی رائے بھی تھی لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ ان کی سستی اور کوتاہی کی وجہ سے نہیں بلکہ کورس کے زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کا بہت سا حصہ باقی رہتا۔مدرسوں نے نیک نیتی کے ساتھ اس کورس کے مقرر کرنے میں رائے دی