زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 15
زریں ہدایات (برائے طلباء) 15 جلد سوم فوت ہو گیا؟ کہتے ہیں فوت ہو گیا۔پھر وہ پوچھتے ہیں حضرت عیسی مردہ ہیں یا زندہ؟ کہتے ہیں زندہ اور آسمان پر بیٹھا ہے۔وہ کہتے ہیں پھر بتاؤ تمہارے نبی سے مسیح کی شان بلند ہوئی کہ نہ ؟ اس بیچ میں پڑ کر انہیں کہنا پڑتا ہے کہ ہاں بلند ہوئی۔پھر وہ کہتے ہیں جب تمہارے نبی سے جو تمام نبیوں سے بڑا ہے مسیح کی شان بلند ہے تو پھر وہ نبی تو نہ ہوا بلکہ خدا ہوا اور خدا کا بیٹا ہوا۔کیوں یہ درست ہے یا نہ؟ اس کا جواب انہیں ہاں میں ہی دینا پڑتا ہے۔تو حضرت مسیح کے زندہ ماننے کا ایک ایسا عقیدہ ہے کہ جس کو سن کر رونگٹے کھڑے ہو جانے چاہئیں اور ماتم کرنا اور رونا چاہئے کہ ہمارا عظیم الشان نبی تو فوت ہو گیا اور اسے زمین میں دفن کر دیا گیا لیکن ان کی جگہ بھیجنے کے لئے خدا تعالیٰ نے انیس سو سال سے حضرت عیسی کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے کہ وہ آکر ہماری اصلاح کرے گا۔حالانکہ وہ نہیں سمجھتے کہ پرانی چیز کو آئندہ کام میں لانے کے لئے سنبھال کر وہی رکھتا ہے جو نادار اور مفلس ہوتا ہے۔ایک غریب کی اگر کچھ روٹی کھانے سے بیچ رہے تو وہ اسے رومال میں لپیٹ کر رکھ چھوڑتا ہے کہ رات کو کھاؤں گا لیکن امراء اس طرح نہیں کرتے۔تو حضرت مسیح کو زندہ ماننے کے عقیدہ میں نہ صرف رسول کریم ے کی بہتک ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی بھی بہتک ہے کہ اس سے بڑی مشکلوں سے کہیں ایک مسیح ابن مریم بن گیا تھا چونکہ اسے یہ ڈر تھا کہ شاید پھر کبھی ایسا بن نہ سکے اس لئے اسی کو سنبھال کر رکھنا چاہئے تا کہ وقت پڑے کام آئے۔یا جس طرح پیشہ ور اگر کوئی اچھی چیز بنا لیتے ہیں تو اسے نمونہ کے طور پر اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ نے بھی حضرت مسیح کو بطور نمونہ اپنے پاس رکھ لیا کہ اس کو دیکھ کر آئندہ بناؤں گا۔پھر دیکھو کبھی کوئی طاقتور یہ پسند نہیں کرتا کہ دوسرے سے مدد لے اور جو مدد لیتا ہے وہ طاقتور نہیں بلکہ کمزور ہوتا ہے۔تم مدرسہ میں پڑھتے ہو اس لئے اس بات کو خوب سمجھ سکتے ہو کہ اگر تم خود بخود کوئی سوال حل کر لو تو کیا تمہارا دل چاہتا ہے کہ دوسرے کے پاس پوچھنے کے لئے جاؤ۔لیکن یہ تسلیم کر کے کہ حضرت مسیح زندہ ہیں اور آنحضرت ﷺ کی امت کی اصلاح کے لئے آئیں گے ماننا پڑتا ہے کہ گویا آنحضرت ﷺ ان کو بمنت کہیں گے کہ آپ میری امت کو سنبھالیں اور اس کی اصلاح کریں۔چھوٹے چھوٹے لوگوں میں غیرت