زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 193
زریں ہدایات (برائے طلباء) 193 جلد سوم چاہئے کہ ماں جس قدر اپنے بچہ سے محبت رکھتی ہے اور خدا تعالیٰ جس قدر اپنے بندہ پر مہربان ہے مرد اس سے زیادہ عورتوں پر مہربان نہیں ہو سکتے۔اور جب کہ ماں بھی بچہ کے رونے پر دودھ دیتی ہے اور خدا بھی بندہ کو بہت سے انعام مانگنے پر دیتا ہے تو مرد ان سے بڑھ کر مہربان کس طرح ہو سکتے ہیں کہ خود بخود عورتوں کو امداد دیں۔اس وجہ سے عورتوں ہی کی توجہ اور کوشش مردوں کی توجہ کو اس طرف کھینچے گی تا وہ وقت آجائے کہ عورتیں اس کام میں مردوں کی محتاج نہ رہیں۔ایک دوسرے کا تعاون تو جاری رہے گا مگر مقدار کا لحاظ کیا جائے گا۔اگر سارا کام مرد کریں اور عورتیں کچھ نہ کریں تو عورتوں کے لئے شرم کی بات ہوگی۔اور اگر سارا کام عورتیں کریں اور مرد کچھ نہ کریں تو یہ مردوں کے لئے قابل شرم ہوگا۔اس لئے ایسا وقت نہیں آنا چاہئے مگر یہ ضرور ہونا چاہئے کہ عورتیں اپنا بو جھ آپ اٹھا سکیں۔چونکہ اس وقت وہ لوگ بھی بیٹھے ہیں جو سلسلہ کے نظم ونسق سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان کو میں اس اہم پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ابلیسیت نہیں نکل سکتی جب تک علم کی طرف خاص توجہ نہ کی جائے۔اور وہ اُسی وقت نکلے گی جب ہم عورتوں کی تعلیم کی طرف پوری توجہ کریں گے۔مجھے افسوس کے ساتھ لڑکیوں کے پرائمری سکول کے متعلق یہ معلوم ہوا کہ اس میں ایک سو | ساٹھ لڑکیاں پڑھتی ہیں مگر وہ اس مکان میں کس طرح بیٹھ سکتی ہیں جس میں ان کا سکول ہے سوائے اس کے کہ بلیک ہول کی طرح اس میں بند ہوں۔تو میں صیغوں کے افسروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ عورتوں کی تعلیم کی طرف زیادہ خیال رکھیں۔اور عورتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ پورے استقلال سے کام کریں تاکہ ناامیدی اور مایوسی کا جو اثر پڑتا ہے وہ دور ہو کر خدا تعالیٰ کا رحم اور فضل افق سے ظاہر ہو۔اخیر میں میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہم پر ایسی برکتیں نازل کرے جو دین ودنیا اور عاقبت کے لیے مفید ہوں اور ایسے نتائج نہ ہوں جو مضر ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کی رحمت کا باعث ہوں۔“ (الفضل 21 مارچ 1925ء) 1: البقرة : 32