زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 186

زریں ہدایات (برائے طلباء) 186 جلد سوم رستہ میں ہی اس امر پر خطبہ پڑھا تھا اور کہا تھا دیکھو ایک وقت انسان سمجھتا ہے کہ اگر میں نے یہ بات نہ کی یا فلاں بات کا بدلہ نہ لیا تو میں زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔اس کے دوست اور رشتہ دار آتے ہیں اور اسے سمجھاتے ہیں مگر وہ نہیں مانتا۔پھر وہ وقت گزر جاتا ہے اور جس بات کو وہ زندگی سمجھتا تھا بھول جاتی ہے اور بسا اوقات وہ خیال کرتا ہے کہ اگر میں معاف کر دیتا تو کیا اچھا ہوتا۔اس وقت وہ ندامت غم اور رنج محسوس کرتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جب انسان کسی بات کو حقیقت سمجھ رہا ہوتا ہے وہ اصل میں حقیقت نہیں ہوتی کیونکہ اگر حقیقت ہوتی تو نہ بدلتی۔بات یہ ہے کہ جوشوں سے ایک بات پیدا ہو جاتی ہے جسے حقیقت سمجھ لیا جاتا ہے۔پس انسان کی زندگی محض وقتی جوشوں اور وقتی خیالات کے ماتحت ہوتی ہے اور اکثر اوقات حقیقت سے دور ہوتی ہے إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ سولاس کے کہ انسان اس ہستی کے ماتحت ہو جاوے جو کسی قسم کے افکار و حوادث کے ماتحت نہیں ہے نہ موجودہ سے موثر ہوتی ہے، نہ ماضی کا اس پر اثر پڑتا ہے ، نہ آئندہ کا۔جب انسان اپنے آپ کو اس کا عکس بنا لیتا ہے تب حقیقی زندگی حاصل ہوتی ہے۔اور پھر ایسے لوگوں میں نہ قوت فاعلی رہتی ہے نہ انفعالی جیسی کہ دوسرے لوگوں میں ہوتی ہے۔اس لئے وہ ہر چیز کو اس کی قدر کے مطابق دیکھتے ہیں۔مگر یہ ان کی زندگی کی خوبی نہیں ہوتی۔کیونکہ یہ بات انہیں اُس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ کہتے ہیں اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَاءَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ العلمين 1 پس سب سے ضروری بات جو انسان کے لئے ہے وہ یہ ہے کہ وہ سمجھے اس کے ہر ایک فعل کا نتیجہ نکلے گا اور کوئی فعل ضائع نہ ہوگا۔پھر یہ بھی کہ وہ وقتی حالات اور اثرات کے ماتحت جہالت کے گڑھے میں گر جاتا ہے اس لئے اسے ایسے ہادی اور راہنما کی ضرورت ہے جو ان جذبات اور افکار سے اسے آزاد کرائے۔ان دو باتوں کے سمجھنے سے انسان اپنے مقصد کو پا لیتا اور کامیاب ہو جاتا ہے۔یہ دونوں حقیقتیں طالب علموں کو اور دوسرے لوگوں ں کو مد نظر رکھنی چاہئیں۔اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کی زندگیاں موجودہ زمانہ کے تاثرات کا نقشہ نہ ہوں گی بلکہ ایسی حقیقی زندگیاں ہوں گی جو دوسروں پر بھی اپنا اثر ڈالیں گی۔میں سمجھتا ہوں کہ ایڈریس میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے ان کے لئے مجھے کچھ اور