زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 185
زریں ہدایات (برائے طلباء) 185 جلد سوم سکتے۔اور بعض دوسرے لوگ بھی نہیں سمجھ سکتے کہ بیچ کا اندازہ کس طرح لگایا جاسکتا ہے۔اور یہ نہایت باریک مسئلہ ہے کہ کس طرح بچپن کے بیج کو حج کیا جاتا ہے اس لئے میں اسے بیان نہیں کروں گا۔مگر یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جو شعور بچپن کے زمانہ میں انسان کے دل میں پیدا ہوتا ہے اسی کے ماتحت وہ زندگی بسر کرتا ہے۔اور اگر ہمارے طالب علموں کو دین کا شعور ہو تو | ایسی زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں گے جس کی ایک مسلمان سے توقع ہو سکتی ہے۔پس میں سکول کے استادوں اور تعلق رکھنے والوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر ان کے یہ خیالات سطحی نہیں بلکہ حقیقی ہیں، عارضی نہیں بلکہ مستقل ہیں، عام رو کے ماتحت نہیں بلکہ دلی ہیں تو انہیں چاہئے کہ طالب علموں کی زندگیوں کو اس طرح بنائیں کہ وہ بڑے ہو کر ایسے سایہ دار درخت بن سکیں جن کے سائے کے نیچے حقیقت کے پانے والے آرام کرسکیں۔میں نے بتایا ہے کہ زندگی کے دو بہت بڑے مقصد ہیں جو انسان کو مد نظر رکھنے چاہئیں۔ایک یہ کہ اس زندگی سے بڑھ کر اور حقیقت نہیں ہے۔اور دوسرے یہ کہ یہ زندگی و ہم سے زیادہ نہیں ہے۔شاید بعض لوگوں کو یہ بات سمجھ نہ آئی ہو۔میرا مطلب اس سے یہ ہے کہ انسانی کامیابیوں کے لئے جس قدر انسان کی اپنی ذات تعلق رکھنے والی ہے اور کوئی چیز نہیں۔حتی کہ خدا تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں بھی اُسی وقت ظاہر ہوتی ہیں جب انسان کے اندر ان کے لئے تڑپ ، خواہش، محبت، جذب اور درد پیدا ہو۔پس اللہ تعالیٰ جو رحمان، رحیم ، مجید اور محسن ہے اس کے فیوض بھی نازل ہونے بند ہو جاتے ہیں اگر انسان ان کے لئے کوشش نہ کرے۔اور وہ چہرہ جو چاہتا ہے کہ لوگ اُسے دیکھیں اور وہ نور جس کا مقصد یہ ہے کہ چمکے اور لوگوں کو منور کرے وہ بھی نازل نہیں ہوتا جب تک انسان اس کے لئے کوشش نہ کرے۔اس لئے معلوم ہوا کہ انسان کے لئے سب سے بڑی حقیقت اس کی اپنی ذات ہے۔اگر اس میں رو، جذب اور کشش نہیں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی کوئی برکت اس پر نازل نہیں ہوتی۔لیکن اس کے مقابلہ میں اس میں بھی شبہ نہیں کہ انسانی زندگی سے زیادہ وہمی اور بے حقیقت اور کوئی چیز نہیں۔انسان کے جذبات اور تفکرات محض وہم ہوتے ہیں جو پیش آمدہ حالات کے ماتحت بدلتے رہتے ہیں۔میں نے