زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 180

زریں ہدایات (برائے طلباء) 180 جلد سوم اس وجہ سے کہ اس سکول کے بچوں میں احمد یہ اخلاق قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔مگر پھر بھی انہیں سکول سے انس ہوگا۔کیونکہ کسی جگہ کچھ عرصہ رہنا، بیٹھنا اور سبق پڑھنا ایسی باتیں ہیں کہ جن کا طبیعت پر خاص اثر ہوتا ہے اور اس وجہ سے اس جگہ کو وہ محبت کی نظر سے دیکھتا ہے۔دیکھو وطن کی محبت کیا چیز ہے؟ وطن سے تعلق کی کوئی اخلاقی اور مذہبی وجہ نہیں ہے مگر جب انسان اپنے ملک کو اپنے شہر کو اپنے محلہ کو یا اپنے گھر کو چھوڑتا ہے تو اسے تکلیف محسوس ہوتی ہے۔میں نے بار ہا بتایا ہے کہ ایک شخص جو سالہا سال ایک گھر میں رہتا ہے اسے علم بھی نہیں ہوتا کہ مجھے اس گھر سے محبت ہے۔اور اگر کوئی اس سے پوچھے کہ کیا تمہیں اس مکان سے محبت ہے؟ تو وہ کہے گا اینٹوں اور پتھروں سے کیا محبت ہو سکتی ہے۔لیکن اگر دس پندرہ سال رہنے کے بعد اسے وہ مکان چھوڑنا پڑے تو اُس وقت معلوم ہوتا ہے کہ اس کا کیا حال ہے۔اُس وقت اس کی آنکھوں کی روشنی ، چہرہ کا رنگ، ہاتھوں کی حرکت سب یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اس کا دل درد محسوس کر رہا ہے اور وہی گھر جس کے متعلق وہ کہتا تھا کہ اس کی اینٹوں اور لکڑیوں سے کیا محبت ہو سکتی ہے اس کی ایک ایک اینٹ ، ایک ایک لکڑی، ایک ایک دروازہ اور دروازوں کی ایک ایک کنڈی غرضیکہ اس مکان کی ہر ایک چھوٹی بڑی چیز مختلف جذبات اس کے اندر پیدا کر رہی ہوگی۔اور اسے یوں محسوس ہو گا کہ اس کے لئے ایک ہی راحت کا سامان تھا اور وہ گھر تھا جسے چھوڑ رہا ہے۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ طبعی وابستگی بھی بہت بڑا اثر رکھتی ہے۔پس اس سکول سے مجھے جو تعلق ہے اور میں اس میں پڑھتارہا ہوں اس کی وجہ سے مجھے اس سے طبعی انس اور لگاؤ ہے اس لئے یہ ایڈریس جو اس وقت دیا گیا ہے اسے میں خاص طور پر اور خصوصیت کی نگاہوں سے دیکھتا ہوں۔کیونکہ اس نے مجھے ان ایام گزشتہ اور زمانہ سلف کی یاد دلا دی ہے جب میں طالب علم کی حیثیت سے اس سکول میں آتا اور اس میں پڑھانے والے مدرسوں سے سبق حاصل کرتا تھا۔بچپن کا زمانہ بھی عجیب زمانہ ہوتا ہے اور اس کی کیفیات بھی عجیب ہوتی ہیں۔بعض شاعروں نے تو نظموں کی نظمیں اس امر پر لکھ دی ہیں کہ سب سے بہترین زمانہ بچپن کا زمانہ ہے مگر میں اس سے متفق نہیں کیونکہ بچپن کی خوشی جہالت کی خوشی ہوتی