زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 179
زریں ہدایات (برائے طلباء) 179 جلد سوم اساتذہ وطلباء مدرسہ احمدیہ سے خطاب 25 نومبر 1924ء کو بعد نماز مغرب اسا تذہ و طلباء ہائی سکول قادیان نے سکول کے بورڈنگ کے ڈائٹنگ ہال میں حضرت خلیفہ السیح الثانی ، آپ کے رفقائے سفر اور بہت سے دیگر اصحاب کو دعوت طعام دی۔اس موقع پر تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے حسب ذیل خطاب فرمایا:۔اس وقت جو ایڈریس مدرسہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ساتھ تعلق رکھنے والے اساتذہ اور طلباء کی طرف سے پڑھا گیا ہے اس کے متعلق اپنی طرف سے اور ہمراہیان سفر کی طرف سے جَزَاكُمُ الله اَحْسَنَ الْجَزَاءِ کہتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جو اس سکول کے متعلق میرے دل میں ہیں۔جیسا کہ اس ایڈریس میں اشارہ کیا گیا ہے میں خود بھی اس سکول کا طالب علم ہوں اس وجہ سے مجھے طبعی طور پر اس سکول کے ساتھ انس ہے۔دنیا میں انس دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک مذہبی اور دوسرے طبعی۔مذہبی طور پر تو مجھے ہر اس کام سے انس ہے جو سلسلہ احمدیہ سے متعلق ہے۔اور ایک اس صیغہ سے ہے جس کا قیام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھوں ہوا۔اور ہر اس شخص کو ہونا چاہئے اور ہے جو جماعت احمد یہ میں داخل ہے۔لیکن اس کے علاوہ ایک طبعی تعلق ہوتا ہے جو طبعی وجوہ کی بناء پر ہوتا ہے۔مثلاً وہ ہندو طلباء جو اس سکول میں پڑھتے رہے ہیں انہیں اس سکول کے ساتھ اس لئے لگاؤ اور محبت نہیں ہوگی کہ اسے حضرت مسیح موعود نے قائم کیا ہے یا اس لئے کہ یہ جماعت احمدیہ کا مرکزی سکول ہے اور نہ اس لئے کہ اس کے ذریعہ اس امر کی کوشش کی جاتی ہے کہ احمدیت کی اشاعت کرنے والے پیدا کئے جائیں۔پھر نہ