زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 171
زریں ہدایات (برائے طلباء) 171 جلد سوم طور پر رہ جاتا ہے۔چنانچہ جرمنوں کے متعلق کہتے ہیں کہ ان پر اتنی پابندیاں عائد کی گئی ہیں کہ ان کے جذبات اور احساسات باطل ہو گئے ہیں۔تو تربیت میں یہ مشکل پیش آتی ہے کہ اخلاص اور روحانیت کا اگر خاص خیال نہ رکھا جائے تو اسے صدمہ پہنچ جاتا ہے اس لئے تربیت کے ساتھ ساتھ اس کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔پس کسی قوم کی تربیت کے لئے یہ ضروری ہے کہ نوجوانوں کے اخلاص کو قائم رکھ کر ان کی تربیت کی جائے یعنی بین بین حالت ہو۔نہ تو ایسی حالت ہو کہ تربیت کے نقص کی وجہ سے وہ اخلاق دکھا ہی نہ سکیں اور نہ تربیت کی خاطر ایسی پالش ہو کہ آئینہ نماند والی مثل صادق آجائے۔پس چونکہ آئندہ نسل کی تربیت نہایت ضروری ہے اور ایسی تربیت جو اخلاص کے قیام کے ساتھ ساتھ کی جائے اس لئے مجھے طلباء کے معاملہ میں خصوصیت سے دلچسپی ہے اور اب یورپ جا کر تو اور بھی توجہ ہوگئی ہے۔میں نے وہاں افسوس کے ساتھ دیکھا کہ جو طلباء وہاں جاتے ہیں وہ اتنے کمزور ثابت ہوتے ہیں کہ وہاں کی رو کے مقابلہ میں ان کی مثال ایک پتہ کی سی ہوتی ہے اور جو شخص کسی رو کے ساتھ اس طرح بہہ جاتا ہے اس نے دنیا میں کیا کام کرنا ہے۔عام طور پر وہاں جو طلباء جاتے ہیں ان میں خدا اور رسول کا ادب نہیں پایا جاتا۔اس وقت میں احمدی طلباء کا ذکر نہیں کر رہا بلکہ عام طلباء کا ذکر کر رہا ہوں۔گو بعض باتوں میں احمدی طلباء بھی شامل ہیں۔وہاں جو مسلمان طلباء جاتے ہیں ان میں اگر کسی وجہ سے دین کا ادب ہے تو وہ صرف سیاست ہے تا کہ ایک دین کے نام پر ان کا جتھہ قائم رہے ورنہ جب مذہبی مسائل پر گفتگو ہو تو صاف کہہ دیتے ہیں ہمارا تو خدا پر بھی ایمان نہیں ہے۔مگر میں نے دیکھا ہے کہ کوئی بھی وجہ نہیں کہ یورپ سے اس قدر موثر ہوا جائے۔یورپ جاتے وقت مجھے ایک یہ بھی خیال تھا کہ لوگ کہتے ہیں یہاں کے لوگوں کو تم قائل کر لیتے ہو یورپ میں بڑے بڑے تعلیم یافتہ اور نظمند لوگ ہیں ان سے بات کرنا کارے دارد والا معاملہ ہے اس وجہ سے میرا خیال تھا کہ دیکھوں وہ کیسے لوگ ہیں۔وہاں جاکر میں نے ان لوگوں سے ہر قسم کی گفتگو کی۔سائنس کے جدید انکشافات کے متعلق ان سے گفتگو کی۔ڈارون کے فلسفہ کے متعلق ان سے بات چیت ہوئی۔