زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 169

زریں ہدایات (برائے طلباء) 169 جلد سوم ایک لیڈی اسی دکان کا پتہ ادھر ادھر سے پوچھتی پھرتی ہے ہم نے سمجھا یہ بھی اسی دکان پر جانے والی ہوگی۔وہ جب ہمیں اس دکان کے قریب لے آئی تو کہنے لگی اب تو آپ کو رستہ مل جائے گا۔تب معلوم ہوا کہ وہ ہمارے لئے اس دکان کا پتہ لگا رہی تھی۔جب ہم آگے گئے تو چونکہ دھوئیں سے اس دکان کا نام مٹا ہوا تھا اس لئے ہم اسے پہچان نہ سکے۔یہ دیکھ کر پھر وہ دوڑتی ہوئی آئی اور دکان بتا کر واپس چلی گئی۔اس قسم کے اخلاق ان لوگوں میں پائے جاتے ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ان لوگوں کی روحانیت بھی اعلیٰ درجہ کی ہے بلکہ یہ ہیں کہ ان کی تربیت اعلیٰ درجہ کی ہے جس کے روحانیت سے خالی ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ حقیقی نقصان کے وقت جاتی رہتی ہے۔ایک دفعہ ایک شخص سے مجھے اخلاق پر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔کہنے لگا دیکھو ہمارے کیسے اعلیٰ اخلاق ہیں۔میں نے اسے کہا تم لوگوں میں جو اخلاق پائے جاتے ہیں یہ تربیت کے اخلاق ہیں مذہب کے اخلاق نہیں ہیں۔میں نے کہا یہ تمہاری تربیت کا نتیجہ ہے کہ مجمع میں ترتیب کو قائم رکھتے ہو۔لیکن کیا اگر تھیٹر میں سیٹیں نہ ملتی ہوں تو لوگ ایک دوسرے کو نہیں کچلتے۔وہاں تربیت کا کوئی خیال نہیں رہتا۔لیکن ایک ایسا شخص جو مذہب کے لحاظ سے اعلیٰ اخلاق کا پابند ہو گا وہ ہر جگہ صبر اور استقلال سے کام لے گا۔تو ایمان وہاں بھی کام دیتا ہے جہاں مایوسی ہو مگر خالی تربیت ایسے موقع پر رہ جاتی ہے۔لیکن اگر روحانیت کے ساتھ تربیت بھی ہو تو پھر ہر موقع اور ہر محل پر اخلاق دکھائے جاسکتے ہیں۔ہمارے ملک میں بہت سے نقائص تربیت کی کمی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔بعض ایسے اخلاق جو روحانی ہیں ان میں ہمارے ملک کے لوگ بڑھے ہوئے ہیں اور جو روحانی نہیں ہیں ان میں وہ لوگ بڑھے ہوئے ہیں۔اور اس کی وجہ ان کی تربیت ہے۔لندن میں ایک اخبار والے سے میرا انٹرویو ہوا اس نے پوچھا کیا آپ یہاں کے لوگوں سے کچھ سیکھنے کی ضرورت سمجھتے ہیں؟ میں نے کہا کچھ آپ سے ہمیں سیکھنے کی ضرورت ہے اور کچھ تمہیں ہم سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔روحانیت کے اصول تمہیں ہم سے سیکھنے چاہئیں اور ہم نے تربیت کے اصول تم سے سیکھنے ہیں اس نے یہ گفتگو ایک مشہور اخبار سٹار میں شائع کر دی۔