زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 168

زریں ہدایات (برائے طلباء) 168 جلد سوم کرنے لگ جاتے ہیں جیسا کہ یورپ کے لوگ ہیں۔ہمارے ملک کے لوگوں کے اگر اخلاق کو دیکھا جائے تو معیار اخلاق کے لحاظ سے ان کے اخلاق اعلیٰ ہیں مگر تربیت کے لحاظ سے یورپین لوگ اعلیٰ ہیں۔اور وہ اخلاق کا استعمال اس خوبی سے کرتے ہیں کہ دل پر قبضہ کر لیتے ہیں۔مثلاً ایک موٹی بات ہے کہ خواہ کتنا ہی ہجوم ہوا ایک دوسرے کو دھکا نہیں دے گا اور آپس میں کچھ نہ کچھ فاصلہ رکھے گا۔ایسی حالت میں بھی اگر کسی کا جسم کسی کے ساتھ چھو جائے تو انہیں ایسی عادت پڑی ہوئی ہے کہ خواہ اسی کو ٹھوکر لگے Beg your Pardon کہے گا۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ ہجوم میں مجھ سے ہی ٹھو کر لگتی جس پر میں تو شرم سے آہستہ Beg your Pardon کہتا لیکن جسے ٹھوکر لگتی وہ مجھ سے پہلے ہی کہہ دیتا۔یہ تربیت کا نتیجہ ہے۔اسی طرح اور کئی باتیں ہیں۔مثلاً کوئی مسافر جارہا ہو اور اسے رستہ معلوم نہ ہو تو ہمارے ملک میں غرباء تو اُسے رستہ بتا دیں گے اور اگر کوئی امیر آدمی رستہ پوچھنے والا ہوگا تو اسے اپنی عزت افزائی سمجھیں گے لیکن اگر کسی امیر سے کوئی رستہ پوچھے تو وہ ایسی شکل بنائے گا کہ اس کا فوٹو لے کر عجائب خانہ میں بھیجنے کے قابل ہوگا۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی ہتک سمجھتا ہے مگر وہاں یہ حالت ہے کہ خواہ کسی سے رستہ پوچھو فوز ابتا دے گا۔ہمیں اس بات کا کئی دفعہ تجربہ ہوا ہے اور دو موقعے تو ایسے خاص ہیں کہ جو کبھی نہیں بھول سکتے۔جب ہم احمدیہ مسجد کو پہلے دن جا رہے تھے تو موٹر چلانے والا اس رستہ سے ناواقف تھا۔چلتے چلتے اس نے دیکھا کہ ایک شخص موٹر میں بیٹھا ہے اور دوسرا موٹر سائیکل والا اس سے باتیں کر رہا ہے۔ہمارے موٹر ڈرائیور نے اس سے پوچھا کہ 63 میلر وز روڈ کدھر ہے؟ اس نے پتہ بنایا مگر ہمارا موٹر ڈرائیور پھر بھی نہ سمجھا اور کہنے لگا پھر بتاؤ۔اس نے پھر بتایا لیکن جب اس نے دیکھا اب بھی وہ سمجھا نہیں تو اپنے ساتھی سے کہنے لگا ذرا ٹھہرو میں رستہ بتا آؤں۔چنانچہ وہ آیا اور رستہ بتا کر واپس گیا۔ایک دفعہ ہم کتابیں خریدنے کے لئے ایک دکان پر گئے۔وہ دکان ایک گلی کے اندر تھی۔پولیس مین سے ہم نے اس کا پتہ پوچھا اور اس نے بتایا مگر ہم سمجھ نہ سکے۔اتنے میں دیکھا کہ