زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 167

زریں ہدایات (برائے طلباء) 167 جلد سوم احمدیہ کالجیٹ ایسوسی ایشن لاہور سے خطاب 25 نومبر 1924ء کو احمد یہ کالج ایسوسی ایشن لاہور نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں تہنیت نامہ پیش کیا۔اس موقع پر حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔جو ایڈریس اس وقت کالجیٹ طلباء کی طرف سے پیش کیا گیا ہے میں اس کے متعلق اپنی طرف سے اور ہمراہیان سفر کی طرف سے جَزَاكُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ کہتے ہوئے یہ بتانا | چاہتا ہوں کہ ان کے کام اور ان کی زندگی سے اور جس رنگ میں وہ اپنے اخلاق کی ، اپنے دین کی اور اپنی روحانیت کی تربیت کا موقع رکھتے ہیں اس سے میں ایسی دلچسپی رکھتا ہوں کہ اور کم چیزوں سے مجھے ایسی دلچسپی ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے جیسا کہ بارہا میں انہیں بتا بھی چکا ہوں کہ میں اس بات کا قائل ہوں کہ روحانیت اور تربیت دونوں علیحدہ علیحدہ میدان ہیں۔میرے نزدیک دنیا نے اس وقت تک ایک خطر ناک غلطی کی ہے اور جب میں دنیا کا ذکر کرتا ہوں تو اس سے میری مراد انبیاء صلحاء اور اولیاء نہیں ہیں بلکہ عوام الناس ہیں۔انہوں نے اس نکتہ کو نہیں سمجھا کہ اخلاق اور روحانیت علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں اور تربیت علیحدہ۔اس وجہ سے لوگ تربیت کے نقائص کو روحانیت کی غلطیاں قرار دے لیتے ہیں اور تربیت کی خوبیوں کو روحانیت کا کمال سمجھ لیتے ہیں۔جس کے دو نقص ہیں بلکہ تین ہیں۔جن میں سے دو تو لوگوں کے اپنے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور ایک قوم سے تعلق رکھتا ہے۔اپنی ذات سے تعلق رکھنے والے نقص یہ ہیں کہ بہت لوگ جو اعلیٰ تربیت پا کر اعلیٰ اخلاق حاصل کر لیتے ہیں اس سے وہ اس وہم میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ہمیں اعلیٰ روحانیت بھی حاصل ہو گئی ہے اور اس وجہ سے وہ روحانیت سے غفلت