زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 165
زریں ہدایات (برائے طلباء) کرے؟ 165 جلد سوم حضرت: میں اپنی جماعت میں اگر ایسا دیکھتا ہوں کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے اچھا اور برابر کا سلوک نہیں کرتا تو خواہ اس کی بیوی شکایت بھی نہ کرے میں دخل دیتا ہوں اور باز پرس کرتا ہوں۔ایک شخص نے ایسا کیا اور اس کی بیوی نے بھی شکایت نہیں کی تھی مگر میرے علم میں جب اس کا سلوک آیا تو میں نے فوراً اس پر نوٹس لیا۔تعددازدواج اور بیتامی عبدالحکیم : تعدد ازدواج کے سلسلہ میں ایک اور سوال ہے۔جہاں قرآن مجید نے اس کا حکم دیا ہے وہاں بتائی کا ذکر۔ہے۔اس سے کیا تعلق؟ دوسرے مسلمانوں نے اس کو عام کس طرح کر لیا یعنی چار کی حد بندی کیونکر کی۔جس انداز میں قرآن نے بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ معین نہیں کرتا بلکہ غیر معین ہے۔حضرت : بعض لوگوں نے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ حد بندی نہیں۔مگر رسول اللہ ﷺ نے چونکہ حد بندی کر دی ہے اس لئے وہی معنی مقدم ہوں گے جو آنحضرت ﷺ نے کئے ہیں۔ضا الله یتامیٰ کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے۔اس کے متعلق مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص کو دس یتیم بچے مل گئے۔اگر اس کے اپنے اور بچے بھی ہوں تو ایک عورت کہاں تک خدمت کر سکے گی ایسے موقع پر ضروری ہے کہ وہ دوسری شادی کرلے تا کہ سب کی ہو سکے۔یہ ایک صورت ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ خودان یتامیٰ کی ماں سے شادی کرلے تا کہ وہ ان یتامیٰ کی پرورش میں پوری دلچسپی لے سکے۔کیونکہ ممکن ہے کہ پہلی بیوی کو انٹرسٹ (Intrest) نہ ہو۔تو یہ تعلق اور جوڑ اس آیت کا ہے۔اور اس سے مقصد یتامی کی صورتوں میں سے ایک کثرت ازدواج ہے۔الله حضرت جابر کا واقعہ احادیث میں ہے کہ انہوں نے بڑی عمر کی عورت سے شادی کی اور آنحضرت ﷺ نے دریافت کیا تو انہوں نے وجہ یہ بتائی کہ میری بہنیں چھوٹی عمر کی تھیں، یہ ان کی خبر گیری کر سکے گی۔غرض یتامیٰ کے ساتھ دوسری شادی کا تعلق ہے۔عام اس کو اس طرح پر کر لیا کہ فَانكِحُوا کو یا حکم قرار دیں گے یا اجازت۔تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ایسی