زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 160

زریں ہدایات (برائے طلباء) 160 جلد سوم حضرت قرآن مجید آپ کے سامنے ہے نکال کر دکھا دیں اور قرآن مجید آنحضرت ﷺ کا کلام نہیں یہ خدا کا کلام ہے۔دوسرا طالب علم : آپ مسلمان کو پھر کا فر تو کہتے ہیں؟ حضرت : لوگ کافر کے معنی یہ کرتے ہیں کہ وہ جہنم میں چلا جائے گا، ہم یہ نہیں کہتے۔یہ ہمارے اختیار کی بات نہیں۔اس میں جہنم کا سوال نہیں۔یہ خدا کا کام ہے۔یہ ایک ریلیجس ٹرم ہے۔وہ انکار کرتا ہے اس لئے کا فر کہلاتا ہے۔( حضرت صاحب نے حقیقۃ الوحی سے اس کے متعلق حوالہ جات دکھائے ) طالب علم : کافر کی تشریح ہو گئی ہے یہ درست ہے۔(یہاں یہ گفتگو ختم ہوگئی اور پھر سیاسی گفتگو شروع ہوگئی ) سیاسی مسائل پر گفتگو ایک طالب علم: ہم کس طرح اپنے حقوق حاصل کریں؟ حضرت: ہمارا یہ طریق ہے کہ ہم قانون کے ماتحت اپنے حقوق لیتے ہیں۔اگر نہ لے سکیں اور مذہبی مداخلت ہو تو پھر اس ملک کو چھوڑ دینا چاہئے۔یہ آسان طریق ہے۔ملک میں رہ کر قانون میں تبدیلی کی کوشش کرنی چاہئے اور جب تک لاء (Law) ہے اس کا احترام کرنا چاہئے۔کیونکہ اگر ایک دفعہ قانون شکنی کی عادت ڈال دو گے تو پھر قانون کا احترام اور اطاعت اٹھ جائے گی۔جب وہ قانون درست نہ ہو تو امن سے اس کے تبدیل کرانے کی کوشش کرو۔اگر کامیابی نہ ہو تو اس سے باہر چلے جاؤ۔طالب علم : ہاں یہی درست طریق ہے۔حضرت : ہمارے خلاف دو قسم کا پرسی کیوشن (Persecution) ہے۔اول مسلمان ہمارے مخالف ہیں۔دوم ہندو مسلمانوں کی مخالفت کی وجہ سے بحیثیت مسلمان ہماری مخالفت کرتے ہیں۔اب آپ ہی بتائیں کہ ہم کیا طریق اختیار کریں۔میں نے ہر موقع پر مسلمانوں کو صحیح مشور دیا ہے اور مسلمانوں کے مفاد میں ان سے کو آپریٹ (Co-operate) کیا ہے مگر وہ خود فائدہ نہ اٹھائیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔ابھی مسلم لیگ کے موقع پر جب انہوں نے مجھے دعوت