زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 159
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 159 جلد سوم حضرت : اس کا مجھ سے کیا تعلق۔میں تو آپ ترجمہ کرتا ہوں اور ترجمہ صاف ہے۔میں مولوی محمد علی صاحب کی اتباع نہیں کرتا۔اور میں تعلی سے نہیں کہتا بلکہ تحدیث نعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ ان سے زیادہ عربی جانتا ہوں۔پروفیسر عبدالحکیم : ( طالب علم کو مخاطب کر کے ) اس آیت سے یہی ثابت ہے اور اس میں بحث فضول ہے۔پہلا طالب علم : کیا پہلوں میں سے بھی کسی نے یہ معنی کئے ہیں اور کسی کا ایسا عقیدہ ہے؟ حضرت : یہ سوال معقول ہے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم دکھائیں۔چنانچہ مولانا روم، ابن عربی، دیو بند مدرسہ کے بانی مولانامحمد قاسم اجرائے ثبوت کے قائل ہیں۔طالب علم : مرزا صاحب پر کون سی کتاب نازل ہوئی ؟ حضرت: ہر رسول کے لئے کتاب شرط نہیں۔شریعت کامل اور ختم ہو چکی ہے پہلے ایسے رسول بنی اسرائیل میں آتے رہے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔پروفیسر عبد الحلیم : مگر حضرت مرزا صاحب تو اپنی رسالت کا انکار کرتے ہیں۔من نیستم رسول و نیآورده ام کتاب حضرت : یہ تو آپ کی رسالت کو ثابت کرتا ہے کہ میں ایسا رسول نہیں جو کتاب لایا ہو۔عبد الحکیم نہیں وہ تو کہتے ہیں کہ رسول بھی نہیں اور کتاب بھی نہیں لایا۔وو 99 حضرت : آپ کو عطف سے غلطی لگتی ہے۔" مخاطب کے لئے دلیل کے طور پر بھی آتا و ہے اور اس کا دوسرا مصرع پڑھو۔و ہاں ملہم استم و ز خداوند منذرم اور نذیر قرآن مجید میں رسول کے لئے آیا ہے۔عبد الحکیم : قرآن مجید کسی نبی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتا۔حضرت قرآن مجید میں تو لکھا ہے تِلكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ 2 الله عبد الحکیم : قرآن مجید میں آنحضرت ﷺ نے کہا ہے کہ مجھے کسی پر فضیلت نہیں۔