زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 151

زریں ہدایات (برائے طلباء) 151 جلد سوم جہاں تک سمجھتا ہوں آپ کا یہ سوال اصل سوال نہیں بلکہ آپ کے دل میں جو سوال ہے وہ یہ ہے کہ فارن (Foreign) حکومت کیوں حکومت کرتی ہے؟“ اس پر طالب علم مذکور نے کہا کہ ہاں اصل سوال یہی ہے ) میں اس سوال کا بھی جواب اصولی طور پر دیتا ہوں۔آپ مانتے ہیں اور یہ واقعہ ہے کہ مسلمانوں نے بھی دوسروں پر حکومت کی ہے۔حضرت ابو بکر صدیق آنحضرت مہ کے بعد خلیفہ ہوئے اور وہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم کا اسوہ تھے۔اور ان کے بعد اسلامی حکومت کا دائرہ اور بھی وسیع ہوتا گیا۔یہاں تک کہ ایران ، مصر، شام اور دور تک اسلامی حکومت پہنچ گئی۔اب اگر کسی قوم کو کسی دوسری قوم پر حکومت کرنے کا حق نہیں تو سوال ہوتا ہے کہ پھر مسلمانوں کو دوسروں پر حکومت کرنے کا کیا حق تھا؟ اور دوسری قوموں پر اسلامی حکومت کی بنیاد خود آنحضرت ﷺ کے وقت میں پڑی ہے اس لئے ہم یہ کہنے کے مجاز نہیں کہ یہ طریق غلط تھا۔اب فرض کرو کہ اسلامی حکومت کے زمانہ میں عراق و شام کہتے کہ ہم تمہارے علاقہ میں نہیں رہتے اور فرض کرو کہ خالد اور ابو عبیدہ کی جگہ میں اور آپ ہوتے اور ہم سے یہ سوال کیا جاتا کہ ہم۔آپ کے ماتحت نہیں رہنا چاہتے آپ اپنے ملک کو چلے جائیں تو ہمارا کیا جواب ہوتا۔“ اس موقع پر طالب علم مذکور سوچ میں پڑ گیا لیکن خلیفہ عبدالحکیم صاحب بول اٹھے ) ان کو سیکنڈری پوزیشن دو جیسے انگریز ہندوستان میں ہیں وہ غلامی پیدا کرتا ہے۔مفتوح سے زیادہ ذلیل پوزیشن کسی کی نہیں ہوتی۔اس کے تمام امور میں غلامی پیدا ہو جاتی ہے۔جیسے اوڈوائر نے پیروں کو جمع کر لیا اور وہ سب کے سب اس کے دروازے پر پہنچے اور جس قسم کا ایڈریس اس نے چاہا دے دیا۔“ یہ فقرے کچھ ایسے طور پر خلیفہ عبد الحکیم صاحب نے ادا کئے جن سے طنز کا رنگ نمایاں تھا حضرت نے ہنستے ہوئے فرمایا ) ہم تو اُس موقع پر نہ تھے۔آپ کہتے ہیں ایسا ہوا شاید آپ ہوں گے ، آپ کے کہنے سے مان لیتے ہیں۔پروفیسر صاحب پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ جھٹ بول اٹھے۔نہیں نہیں ! میری