زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 150

زریں ہدایات (برائے طلباء) 150 جلد سوم کی اطاعت کرنی چاہئے تو پھر اس اصل کو مخصوص تو نہیں کر سکتے کہ یہ صرف مسلمانوں کے متعلق ہے اور غیر مسلم کی حکومت اگر عدل و انصاف بھی کرے تو اس کی اطاعت نہ کی جائے۔حکومت میں اپنے پرائے کا سوال نہیں ہوتا بلکہ حقوق اور رعایا کا سوال ہوتا ہے۔دیکھو اس ملک میں انگریزوں ہی کی حکومت ہے مگر کیا انگریز اس وجہ سے خوش ہو جائیں گے کہ ہمارے بھائی حکمران ہیں؟ نہیں بلکہ وہ اپنے حقوق مانگیں گے۔آئر لینڈ کا قضیہ آپ کے سامنے ہے تو حکومت میں جو سوال معرض بحث میں آتا ہے وہ رعایا کے حقوق کا سوال ہوتا ہے۔طالب علم : انگریزوں کا غیر ہونا تو آپ نے بھی تسلیم کر لیا ہے کیونکہ آپ ان کو دعوتِ اسلام دیتے ہیں۔جب ان کے سامنے اسلام پیش کیا جاتا ہے تو وہ غیر ہوئے۔حضرت اقدس : دعوتِ اسلام تو ہمارا فرض ہے ہم مسلمانوں کو بھی دعوت دیتے ہیں۔میں تو کہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ اس بات کا کوئی تعلق نہیں۔سوشل حقوق الگ ہوتے ہیں، مذہبی الگ اور حکومت کے الگ اور ان میں جدا جدا احکام ہوتے ہیں۔دیکھو انسان مختلف جوارح اور اعضاء کا مجموعہ ہے۔ہاتھ پاؤں وغیرہ سب کے سب مجموعی طور پر ایک حیثیت رکھتے ہیں مگر ان کے کام الگ الگ ہیں۔اسی طرح سوشل اور پولیٹیکل معاملات کا بھی ایک جدا جدا دائرہ ہے۔اگر ہم ان کو ملا کر بحث کریں گے تو غلط راستہ پر جا پڑیں گے۔ہر ایک دائرہ کے اندر رہ کر غور ہو سکتا ہے۔گورنمنٹ اور رعایا کے متعلق جو احکام ہیں ان کو اسی نظر سے دیکھو، سوشل اصولوں پر اسے نہ پر کھو یا کسی اور نقطہ خیال سے اس پر بحث نہ کرو۔آپ نے خود ایک اصل بتایا ہے کہ حکومت جب تک نیکی کے کام کرتی ہے، رعایا کی خبر گیری ، انصاف اور عدل کے اصولوں پر ہوتی ہے اور ان کے حقوق محفوظ ہیں تو ایسی حکومت کی اطاعت اور اس سے وفاداری کرنی چاہئے۔پس جب تک حالات میں تغیر نہ ہو اس اصل کو کیوں چھوڑا جائے۔مذہب میں سیاست ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر جگہ سیاست کو دخل دیا جائے۔احکام اسلامی میں یہ بھی ایک اصل ہے کہ ان میں حالات کے بدلنے کے ساتھ استثناء ہو جاتا ہے۔مثلاً وضو کرنے میں ہاتھ دھونا ضروری ہے لیکن جس شخص کے ہاتھ ہی نہ ہوں اس کے لئے ہاتھ دھونا ضروری نہیں۔میں