زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 141

زریں ہدایات (برائے طلباء) 141 جلد سوم بندوق چلانے کے فن سے واقف ہو سکتے ہیں۔اور تلوار چلانا سکھنے کے لئے ضروری نہیں کہ تلوار ہی پاس ہو گٹکے سے تلوار چلانے کا فن سیکھا جا سکتا ہے۔ہمارے ملک میں نیزہ چلانے کا فن نہیں مگر تلوار کا قائم مقام گت کا موجود ہے اور گنے کا تلوار ہی سے تعلق ہے۔میں عام کھیلوں میں سے گتنے کے فن کو اچھا اور شریف فن سمجھتا ہوں کیونکہ اس کا فنون جنگ سے تعلق ہے اور اس کا سیکھنا ضروری ہے۔کیا معلوم کہ کسی کو کب ملک و دین کے لئے بلا لیا جائے اُس وقت جو شخص نہیں جانتا ہوگا وہ ایسے وقت میں یہی کہے گا کہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔گو میں نے تمام کھیل دیکھے نہیں مگر کھیلوں کے متعلق سنتا رہا ہوں۔میں نے سنا ہے کہ ہائی سکول کی فٹ بال کی ٹیم ایسی مضبوط نہیں ہے جیسی پہلے ہوتی تھی۔اس لئے ہائی سکول کے لڑکوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی روایات کو قائم رکھیں۔ہمارا سکول فٹ بال میں شروع سے فائق رہا ہے خالصہ سکول کے طلباء پر بھی ایک دو دفعہ انہوں نے کامیابی حاصل کی ہے باوجودیکہ وہ بڑے جسم اور بڑی بڑی عمر کے نوجوان ہوتے ہیں۔پس ہائی سکول کے طلباء کا فرض ہے کہ وہ اپنی روایات کا خیال رکھیں کیونکہ قومی روایات کا قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔فٹ بال میں ہمارا سکول ہمیشہ فائق رہا ہے اس لئے چاہئے کہ وہ اس کی ورزش کو بڑھا ئیں نہیں تو گھٹائیں بھی نہیں۔میں نے جہاں تک سنا معلوم ہوا ہے کہ فٹ بال کی طرف اب لڑکوں کی ویسی توجہ نہیں رہی۔ہاکی سے میں نفرت کرتا ہوں۔چونکہ یہ صحت کے لئے مضر ہے اس لئے چاہئے کہ فٹ بال اور کرکٹ کی طرف زیادہ توجہ کی جائے۔ہاکی سے سینہ کمزور ہو جاتا ہے کیونکہ جھک کر کھیلنا پڑتا ہے۔ولایت میں تو اب فیصلہ ہو گیا ہے کہ بتدریج ہا کی ہٹا دی جائے اس سے صحت کو نقصان ہورہا ہے مگر یہاں ابھی اس طرف توجہ نہیں کی گئی حالانکہ میں نے کئی دفعہ اس کی مضرت کی طرف سکول کے لوگوں سے ذکر کیا ہے۔میں نے جو کھیل دیکھا ہے وہ اولڈ بوائے (Old Boy) اور مدرسہ احمدیہ کے طلباء کا مقابلہ تھا اس سے معلوم ہوا کہ مدرسہ احمدیہ کی ٹیم اولڈ بوائے سے اچھی تھی۔شاید ناموں کا بھی اثر ہوتا ہے اولڈ (old) کے معنے بوڑھے اور پرانے یا قدیم کے ہیں۔اس لئے اولڈ بوائے سے