زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 140

زریں ہدایات (برائے طلباء) 140 چلید سوم وہاں پر جنگی کرتب دکھائے گئے۔آپ نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ تم بھی دیکھو۔آپ کسی قدر جھک گئے اور حضرت عائشہ نے ان کرتبوں کو دیکھا۔اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم اللہ نے دیکھا کہ صحابہ آپس میں تیراندازی کی مشق کر رہے ہیں آپ نے فرمایا ایک طرف میں ہوتا ہوں۔جس فریق کے مقابلہ میں آپ کھڑے ہونے لگے تھے اس طرف کے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم آپ کے مقابلہ میں کھڑے نہیں ہوتے۔آپ نے فرمایا اچھا! میں دیکھتا ہوں تم لوگ مقابلہ کرو 2 غرض رسول کریمی ورزشوں میں حصہ لیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر میں کبھی ناغہ نہیں کرتے تھے۔سوائے ایسی بیماری کے جس میں آپ ہل نہ سکتے ہوں۔جب میری خلافت کا زمانہ آیا تو میں نے ابتداء کام کے باعث ورزش کرنا چھوڑ دیا جس سے میری جسمانی حالت پر بہت برا اثر پڑا۔اُس وقت میں نے ایک خواب دیکھی جس میں میں ایک شخص کو ورزش کی ضرورت سمجھا رہا ہوں۔اس کو میں نے کہا بعض کھیل بعض لوگوں کے لئے جائز ہوتے ہیں مگر وہ لوگ جن کے ذمہ بڑے بڑے ذمہ داری کے کام ہوتے ہیں اگر وہ ورزشوں میں حصہ نہ لیں اور صحت جسمانی کا خیال نہ رکھیں تو ان پر گناہ ہوتا ہے۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور میں نے سمجھا یہ مجھے ہی سمجھایا گیا ہے۔اس کے بعد میں نے ورزشوں میں حصہ لینا شروع کیا جس سے میری جسمانی صحت اچھی ہوگئی اور میں پہلے سے زیادہ کام کرنے کے قابل ہو گیا۔ورزشوں میں سے فٹ بال اور گت کا ضروری ہیں۔گت کا ایسی چیز ہے جس سے تلوار چلانے کی مشق ہوتی ہے۔یہ ایسی باتیں ہیں جو قوموں کی بقاء کے لئے ضروری ہیں۔ہمارے ملک میں قانون اسلحہ جاری ہے جس کے باعث ہر شخص تلوار اور بندوق نہیں رکھ سکتا۔لیکن میرے نزدیک اگر وہ لوگ جن کے پاس لائسنس ہوں پاس کھڑے ہو کر بطور مشق کے بندوق چلوا د میں اور اس طرح اوروں کو بھی نشانہ سکھا دیں تو اس میں کچھ حرج نہیں اور اس سے اپنی جماعت کے لوگ