زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 120
زریں ہدایات (برائے طلباء) 120 جلد سوم آگئے۔بس صرف یہی ایک موقع ہے جب میزبان کو مجرم کرنے کے لئے مہمان اس کی دعوت کر سکتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ملک وقوم کے دستور اور رسوم اثر رکھتی ہیں۔اور خواہ کوئی انسان کسی قدر بڑھ جائے رسوم اور اخلاق سے تعلق رکھنے والی باتوں سے بالا نہیں ہو جاتا۔ان کا اسے لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔حدیث میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر گوہ ( سوسمار) کا گوشت لایا گیا مگر آپ نے نہ کھایا۔ایک صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں۔اس نے پوچھا پھر آپ نے کھایا کیوں نہیں؟ فرمایا ہمارے ہاں اس کے کھانے کا رواج نہیں۔1 تو رسول کریم ﷺ جو رسوم کو مٹانے کے لئے آئے تھے وہ بھی اس رواج کا لحاظ کرتے ہیں جو گوہ کے متعلق پایا جاتا تھا۔بات یہ ہے کہ انبیاء ان رسوم کو مٹاتے ہیں جو لوگوں کے لئے قید اور مصیبت کا باعث ہوں نہ اُن کو جو اخلاق فاضلہ ہوں۔اور چونکہ یہ بھی اخلاق فاضلہ کے خلاف ہے کہ جو چیز وہ لوگ استعمال نہ کرتے تھے اس کو استعمال کیا جاتا اس لئے رسول کریم ﷺ نے اسے استعمال نہ کیا کیونکہ اس کا استعمال لوگوں کی طبائع پر گراں گزرتا۔تو بعض عادات اور رسوم اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہیں اور ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مہمان کو مہمان بنانا چاہیئے اور میزبان کو میز بان بننا چاہئے۔مگر اس دعوت میں اس کے خلاف کیا گیا ہے جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔یہ نصیحت میں نے اب اس لئے کی ہے کہ اگر پہلے کہتا تو طلباء سمجھتے ہم نے ایک کام جو شوق سے کیا تھا اسے رد کر دیا گیا اس خیال سے میں دعوت میں آ گیا۔گو میرے لئے ہر قدم بلکہ ہر لقمہ تکلیف دہ تھا۔پس یا درکھو کہ ہمارے ملک میں جو یہ اخلاقی رسم ہے اس کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے۔یورپ میں یہ بات نہیں ہے۔وہاں تو لوگ ہوٹلوں میں ٹھہرتے ہیں اور اپنے خیالات لوگوں تک پہنچانے کے لئے ان کی دعوتیں کرتے ہیں۔مگر وہاں تو یہ بھی رواج ہے کہ اگر کسی کا بیٹا یا بیٹی آئے تو وہ بھی ہوٹلوں میں ٹھہرتے ہیں اور ماں باپ پوچھتے ہیں کیا کل تم کو فرصت ہوگی کہ