زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 119

زریں ہدایات (برائے طلباء) 119 جلد سوم تصویری زبان میں ہیں ایک یہ ہے کہ میزبان دعوت دے اور مہمان دعوت کھائے۔مگر یہاں ایسے عجیب طریق سے بلایا گیا ہے کہ یہاں مہمان میزبان بن گئے ہیں اور میز بان مہمان ہو گئے ہیں۔اس کے متعلق اگر مجھے ایسے وقت میں اطلاع نہ دی جاتی کہ میں سمجھتا اگر میں انکار کروں گا تو دعوت دینے والوں کو تکلیف ہوگی اور ان کو نقصان اٹھانا پڑے گا تو میں انکار کر دیتا مگر مجھے پہلے معلوم نہ ہوا بلکہ یہ معلوم تھا کہ مدرسہ احمدیہ کے طلباء دعوت کرنے والے ہیں۔یہ بعد میں معلوم ہوا کہ ان سے سمجھوتہ کر لیا گیا ہے۔میں نے خیال کیا اگر اس وقت انکار کروں گا تو دعوت کا انتظام کرنے والوں کی طبیعتوں پر بوجھل اور گراں گزرے گا اور چونکہ طلباء میں پارٹی فیلنگ زیادہ پائی جاتی ہے اس لئے وہ سمجھیں گے کہ ہم نے دعوت کی تھی اس لئے قبول نہ کی گئی اور اگر کوئی اور کرتا تو قبول ہو جاتی۔جس طرح غرباء سمجھ لیتے ہیں کہ ہم غریب ہیں اس لئے ہماری دعوت منظور نہیں کی جاتی۔ایک دفعہ ایک غریب نے مجھے دعوت کے لئے کہا۔اس کی ایسی حالت تھی کہ اس کے ہاں سے کھانا کھانا طبیعت پر بہت گراں معلوم ہوتا تھا اس لئے میں ٹالتا رہا۔مگر جب میں نے دیکھا کہ اس سے اس کی طبیعت میں ملال پیدا ہونے لگا ہے تو میں نے دعوت قبول کر لی۔پس ایسے آدمی کی دعوت اگر منظور نہ کی جائے تو خواہ اس کے لئے کتنی ہی معقول وجہ ہو وہ یہی سمجھتا ہے کہ میری غربت کی وجہ سے منظور نہیں کی گئی۔اور اگر کسی امیر کی دعوت رد کی جائے تو وہ سمجھتا ہے کہ کوئی معقول وجہ ہوگی۔اسی طرح مجھے طلباء کے ابتلاء کا ڈر تھا کہ اگر میں نے انکار کر دیا تو کہیں گے کوئی بڑا آدمی دعوت کر تا تو مان لیتے مگر ہماری نہ مانی۔اس وجہ سے میں نے اس دعوت کو قبول تو کر لیا لیکن در حقیقت یہ جو ناشتہ کا وقت تھا اس وقت مجھے یہی خیال آرہا تھا اور ہر ایک لقمہ اور چائے کا گھونٹ پکار پکار کر کہ رہا تھا کہ ن ستا، نہ ستا یعنی یہ ناشتہ ذرا سے تغیر کے ساتھ اپنی حقیقت ظاہر کر رہا تھا۔میرے نزدیک مہمان کو میز بان کی دعوت کرنے کا حق ایک ہی موقع پر ہے اور وہ سزا کے طور پر کہ مہمان جائے اور لوگوں کو حق سنائے مگر وہ سننے کے لیے نہ آئیں اس پر وہ ان کی دعوت کرے اور انہیں کھانا کھلا کر بتائے کہ دیکھو تم حق سننے کے لئے نہ آئے مگر کھانے کے لئے