زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 7

زریں ہدایات (برائے طلباء) 7 جلد سوم نزد یک الزام ہو تو ہو لیکن ہمارے نزدیک یہ کوئی الزام نہیں بلکہ اسی کو ثابت کرناہمارا کام اور فرض ہے۔پس تم کسی کے فریب میں نہ آؤ۔ہر ایک وہ شخص جو ایسا کہنے والا ہے اسے خوب کھول کر سنا دو کہ تم میں اور ہم میں فرق یہی ہے کہ تم نے ایک نیا مذہب بنارکھا ہے اور ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ وہی پرانا مذ ہب ملا ہے جو خدا تعالیٰ نے آنحضرت مہ کے ذریعہ دنیا کے لئے نازل کیا تھا۔تمہارے ایمان کمزور نہیں بلکہ بالکل نیست و نابود ہو گئے ہیں اور تم نے اپنی روزی کمانے کے لئے الگ الگ فریق قائم کر کے نئے نئے مسئلے گھڑ لئے ہیں۔جب تمہارے پاس مال و اموال نہ رہے تو تم نے اپنے اور اپنے ساتھ والوں کے دلوں کو اس طرح تسلی دے لی کہ امام مہدی آئے گا اور وہ آکر غیر مذاہب کے سب لوگوں کا مال و اسباب چھین کر ہمیں دے جائے گا۔پھر جب تم ہر ایک جگہ ذلیل اور رسوا ہو گئے تو تم نے اس طرح اپنا دل خوش کرنا چاہا کہ حضرت مسیح آئیں گے اور تمام دنیا کی بادشاہت ہمیں دے جائیں گے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر تمہارے ان تمام خیالات کو باطل کر دیا اور اصل اسلام پیش کیا۔پس ہم پر نئے دین کے ایجاد کرنے کا الزام نہیں آتا بلکہ تم پر ہی آتا ہے۔پچھلے سال میں نے خدا تعالیٰ، ملائکہ، انبیاء اور کتب وغیرہ کے متعلق بتایا تھا۔لیکن آج میں ایک اور بات بتانا چاہتا ہوں۔یہ تو تم خوب یا د رکھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کوئی نیا دین نہیں بنایا بلکہ وہی پرانا دین اپنے اصلی رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔لیکن جب لوگوں کے سامنے یہ بات پیش کی جائے تو کہہ دیتے ہیں کہ مرزا صاحب نے پرانا دین کس طرح پیش کیا ہے۔حضرت عیسی کو انہوں نے وفات یافتہ قرار دے لیا ہے، اپنے آپ کو نبی اور مسیح موعود کہتے ہیں پھر یہ پرانا اسلام کس طرح ہو سکتا ہے؟ اس کے متعلق مختلف دلائل دیئے جاسکتے ہیں۔کچھ قرآن کریم سے، کچھ احادیث سے، کچھ عقل سے اور کچھ آئمہ کے اقوال سے۔مگر تمہارے ذہن ان تمام دلائل کو کہاں برداشت کر سکتے ہیں کہ میں تمہارے سامنے ان کو بیان کروں۔اس لئے میں ان کو بیان نہیں کروں گا کیونکہ یہ تمہاری طاقت سے بڑھ کر ہیں اور آجکل کے دماغ کوئی ایسے اعلیٰ نہیں رہے کہ اس عمر میں ایسی -