زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 6
زریں ہدایات (برائے طلباء) 6 جلد سوم سکتے ہیں۔لیکن ان کی بجائے مولوی لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک نیا دین بنالیا ہے۔اور انگریزی خواں ان کو کہتے ہیں کہ انہوں نے پرانا دین پکڑا ہوا ہے حالانکہ مولویوں کے پاس آجکل کا تازہ بتازہ اور تو بہ تو مذہب ہے اور ہمارے پاس وہی جس کو تیرہ سو سال گزر چکے ہیں۔اگر یہی مذہب مولویوں کا بھی ہوتا جو ہمارا ہے تو کبھی کسی انگریزی خواں کو ان پر ہنسی کا موقع نہ ملتا۔جیسا کہ ہم اس بات کا نمونہ موجود ہیں۔لیکن ان دونوں گروہوں نے ٹھو کر کھائی ہے۔مولوی صاحبان تو پرانے کو نیا کہتے ہیں اور انگریزی خواں نئے کو پرانا۔کہتے ہیں کوئی شخص سید کہلاتا تھا کسی عدالت میں جو پیش ہوا تو اس کے متعلق کہا گیا کہ یہ سید نہیں ہے۔اس نے کہا نہیں میں سید ہوں۔اس کے متعلق وہ گواہ لایا۔اس گواہ سے جب عدالت میں پوچھا گیا کہ کیا واقعہ میں یہ سید ہے؟ تو اُس نے کہا کہ واقعی یہ سید ہیں اور ہماری آنکھوں دیکھے سید ہیں۔اس سے پوچھا گیا کہ آنکھوں دیکھے سیڈ“ کا کیا مطلب ہے؟ تو اس نے کہا کہ ہمارے ملک میں ایک تو وہ سید ہیں جو ہمیشہ سے کہلاتے آئے ہیں کہ ہم سید ہیں۔ان کی نسبت تو ہمیں کوئی علم نہیں ہے کہ وہ سید ہیں یا نہیں۔لیکن ان کے تو ابا جان نے ہمارے سامنے سید ہونے کا دعوی کیا تھا۔ہم ان کا اعتبار کریں یا ان کا۔تو غیر احمدی لوگ خود ایسا اسلام پیش کرتے ہیں جو بالکل جدید اور نیا ہے لیکن اعتراض ہم پر کرتے ہیں کہ انہوں نے نیا اسلام بنا لیا ہے۔ہمارا نیا اسلام نہیں بلکہ وہی پرانا ہے جس کو تیرہ سو سال گزر گئے ہیں۔پس ہم پر یہ الزام تو لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ہمیں تیرہ سو سال پیچھے لے جانا چاہتے ہیں اور وہی پرانا اسلام منواتے ہیں جس سے بمشکل پیچھا چھڑایا تھا۔لیکن ہم پر یہ الزام ہرگز ہرگز نہیں لگایا جا سکتا کہ ہم کوئی نیا اسلام منواتے ہیں۔تو یہ بات خوب یاد کو تمہیں بہت لوگ ایسے ملیں گے جو کہیں گے کہ تم نے نیا دین اختیار کر لیا ہے لیکن تم دل میں یہ بٹھا لو کہ ہم نے کوئی نیا دین اختیار نہیں کیا بلکہ ہمارا وہی دین ہے جو قرآن کریم میں ہے۔اگر کوئی تمہیں کہے کہ تم نے نیادین اختیار کر لیا ہے اور مرزا صاحب نے ایک نیا دین ایجاد کیا ہے تو اُسے کہو کہ یہ جھوٹ ہے۔ہاں اگر تم الزام ہی لگانا چاہتے ہو تو یہ لگا لو کہ مرزا صاحب نے تیرہ سو سال پچھلا مذہب پھر دنیا کے سامنے لا رکھا ہے۔یہ الزام ان کے