زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 5
زریں ہدایات (برائے طلباء) 5 جلد سوم موجود ہے قرآن کریم بھی موجود رہے گا۔لیکن ہمارے اور حضرت مسیح کے کہنے میں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ ان کی زمین و آسمان سے مراد صرف اسرائیلی سلسلہ تھی لیکن ہمارے نزدیک کوئی ہو جب تک بنی نوع انسان موجود ہے اس کے لئے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم پر عمل کرے اور آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا جوا اپنی گردن پر رکھے۔تو ہمارا کلمہ وہی ہے، کتاب وہی ہے، رسول وہی ہے۔پھر فرق کیا ہے؟ یہی کہ چونکہ اس تعلیم اور اس کتاب کے اس مفہوم کو جو آنحضرت ﷺ کی معرفت حاصل ہوا تھا لوگوں نے بگاڑ دیا تھا اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس زمانہ میں ایک نبی آیا۔تا اس کے ذریعہ وہ ایمان اور یقین حاصل ہو سکے جو بچے اور راستباز لوگوں کو ہوا کرتا ہے اور تا شریعت میں جو غلط عقائد داخل ہو گئے ہیں ان کو نکال کر دور کر دیا جائے۔یہی وہ کام ہے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے ہیں۔ورنہ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے اور نہ کوئی نیا کلمہ بنایا ہے۔پس اب بھی ہمارے پاس وہی اسلام ہے جو رسول اللہ ﷺ کے وقت تھا۔تو بجائے اس کے کہ کوئی تمہیں یہ کہے کہ تم نے کوئی نیا دین بنالیا ہے تم اسے کہو کہ ہمارا تو یہ دعوی ہے کہ ہم نے وہی پر ان دین قائم کیا ہے جو آنحضرت ﷺ لائے تھے۔الله اس میں شک نہیں کہ اس زمانہ میں ایک نیا دین نہیں بلکہ کئی نئے دین پیدا ہو گئے تھے۔اس زمانہ کے مولویوں، صوفیوں، امرا اور نیچریوں کے ذریعہ کئی قسم کے نئے دین قائم ہو گئے تھے اور حقیقی اسلام مٹ گیا تھا۔لیکن حضرت مرزا صاحب اس لئے نہیں آئے تھے کہ یہ بھی کوئی نیا دین قائم کریں۔بلکہ اس لئے آئے تھے کہ وہی پر ان دین قائم کریں جو آنحضرت ﷺ کے ذریعہ قائم ہوا تھا۔پس ہم پر یہ الزام نہیں آسکتا کہ ہم نے نیا دین بنالیا ہے بلکہ اگر الزام آتا ہے تو ان لوگوں پر ہی کہ جنہوں نے نیا دین گھڑ لیا ہے۔پس ہمارا جو دین ہے وہ وہی پرانا ہے جو آج سے تیرہ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ لائے تھے۔آجکل کے انگریزی خواں مولویوں اور مسلمانوں کو طنزاً کہتے ہیں کہ ان کا مذہب اولڈ فیشن ہے حالانکہ وہ یہ بات ہمیں کہہ