زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 104

زریں ہدایات (برائے طلباء) 104 جلد سوم خوش قسمت ہیں جنہیں باہر جانے کا موقع ملے گا۔یہ غلط ہے۔بے شک باہر جا کر دین کا کام کر نا خوش قسمتی ہے مگر وہ زیادہ خوش قسمت ہے جو مرکز میں کسی کام پر لگایا جاتا ہے۔مرکز کی اہمیت ہر شعبہ میں تسلیم کی جاتی ہے۔اور دینی شعبہ میں تو خصوصاً بہت بڑی اہمیت ہے۔پس باہر جانے والا خوش قسمت ہے اگر خدمت دین کے لئے جاتا ہے۔مگر مقابلہ اس سے زیادہ خوش قسمت نہیں جو مرکز میں رہتا اور خدمت دین کرتا ہے۔اگر کسی کو خدمت دین کے لئے باہر جانے کے لئے کہا جائے اور وہ اس لئے انکار کرے کہ میں مرکز میں رہوں گا تو قابل گرفت ہے۔لیکن جسے دونوں موقعے حاصل ہیں کہ چاہے باہر جا کر خدمت دین کرے چاہے مرکز میں رہ کر۔ان میں سے وہ قابل افسوس ہے جو مرکز کو چھوڑتا اور باہر جاتا ہے۔اور وہ بہت خوش قسمت ہے جو مرکز میں رہتا ہے۔(3) اس کے بعد میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بچوں میں یہ عادت ہونی چاہئے کہ جو بات کہیں ایسا معلوم ہو کہ ان کے دل سے نکل رہی ہے۔مجھے بچپن سے ہی یہ عادت ہے کہ جب تک تقریر کرنے والے کے دل کو پکھلتا ہوا نہ دیکھوں اور ایسانہ معلوم ہو کہ جو کچھ کہہ رہا ہے دلی جوش سے کہہ رہا ہے اُس وقت تک مجھے اطمینان نہیں ہوتا بلکہ تکلیف ہوتی ہے۔تم کبھی یہ کوشش نہ کرو کہ دوسرے کے اقوال کی نقل کرو اور دوسروں کے دل سے نکلے ہوئے الفاظ اپنے منہ سے نکالو۔کیونکہ ایسے لوگ دنیا میں کامیابی حاصل نہیں کیا کرتے۔کامیاب وہی شخص ہوتا ہے جو اپنا دل نکال کر دوسروں کے سامنے رکھ دیتا ہے اور اپنے دلی جذبات پیش کرتا ہے۔دیکھو مسلمانوں میں اس غلط روش کی وجہ سے کتنی تباہی آئی۔اس وقت مسجدوں میں کھڑے ہو کر جمعہ کے دن وہی خطبے پڑھ دیتے ہیں جو نہ ضرورت زمانہ کے مطابق ہیں نہ ان کی اپنی حالت کے مطابق ہیں اور نہ سامعین کی حالت کے مطابق ہیں بلکہ آج سے پانسو سال پہلے کی ضروریات اور حالات کو مد نظر رکھ کر جو خطبے پڑھے گئے ہیں آج انہی کو دہرا دیتے ہیں۔جس کا کوئی فائدہ نہیں۔تم جب کوئی تحریر لکھنے لگو تو یہ مدنظر رکھ لو کہ فقرے درست ہوں، زبان صاف ہو، الفاظ صحیح ہوں۔مگر دوسروں کے فقروں اور الفاظ کی نقل نہ کرو۔میں نے دیکھا ہے اس ایڈریس میں یہ بات مدنظر