زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 101
زریں ہدایات (برائے طلباء) 101 جلد سوم کا نفرنس کے موقع پر مدرسہ احمدیہ سے متعلق ارشاد کانفرنس کے موقع پر مدرسہ احمد یہ قادیان سے متعلق حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے جو " ارشاد فرمایا وہ حسب ذیل ہے:۔اب رات بہت گزرگئی ہے باقی امور اس وقت پیش نہیں کیے جاسکتے لیکن ایک ضروری امر ہے جس کی طرف میں احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ مدرسہ احمدیہ ہے۔مدرسہ احمدیہ کی طرف ہماری جماعت کی بالعموم توجہ نہیں۔اس میں پڑھنے والے اکثر وہ لڑ کے ہیں جن کو انجمن وظیفہ دیتی ہے۔ذی ثروت لوگ اپنے بچوں کو بھیجنے میں غفلت سے کام لے رہے ہیں۔پہلے لوگوں کو یہ شکایت تھی کہ خود کا رکن اپنے لڑکوں کو داخل نہیں کرتے۔لیکن اب ان کو یہ شکایت نہیں ہونی چاہئے۔میرا ایک لڑکا قرآن شریف حفظ کر رہا ہے جو چند دن میں ختم کرنے والا ہے۔میں اس کو مدرسہ احمدیہ میں ہی داخل کراؤں گا۔دوسرے لڑکے کو میں نے ہائی سکول میں داخل کیا ہے کہ چوتھی جماعت پاس کر لے۔چوتھی پاس کرنے کے بعد اس کو بھی مدرسہ احمدیہ میں داخل کروں گا۔صرف یہی نہیں جس قدر بھی میرے بچے ہوں گے سب کو انشاء اللہ تعالی مدرسہ احمدیہ میں داخل کرانے کا ارادہ کر لیا ہے۔تو اب میرا حق ہے کہ میں آپ سے بھی مطالبہ کروں کہ اگر تمام | نہیں تو کم از کم ایک ایک بچہ تو ہر ذی ثروت اس مدرسہ میں داخل کرے۔اس سے ایک تو انجمن کے خرچ میں کمی ہوگی اور دوسرے جو اپنے خرچ پر پڑھتے ہیں ان کی طبیعت میں ایک آزادی اور جرات ہوتی ہے اور ترقی کرنے کا خاص جوش ہوتا ہے۔سوائے شاذ و نادر کے ان پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا کہ تم مجبور ہو کر پڑھتے ہو۔اگر چہ اب تو وظیفہ لینے والوں