زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 94
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 94 جلد دوم دوسرے لوگوں کو کام کرنے کی ضرورت نظر نہیں آتی۔میں سمجھتا ہوں کہ ضرورت کام کرنے سے نظر آتی ہے اور دنیا کا کوئی شخص ایسا نہیں جسے بغیر ضرورت سمجھا جائے۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی جگہ بہت سی انجمنوں کا ہونا بجائے اتحاد کے فساد کا موجب ہو جاتا ہے۔لیکن اس سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ زیادہ انجمنیں نہیں بنانی چاہئیں۔کیونکہ جگہ کے لحاظ سے اور کام کی وسعت کے لحاظ سے بہت سی انجمنیں بنائی جاسکتی ہیں۔میں سمجھتا ہوں اگر ینگ مینز احمد یہ ایسوسی ایشن خصوصیت کے ساتھ کوئی کام کرے تو اس کا وجود با وجود دوسری انجمنوں کے نہایت مفید ہو سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے لئے کوئی خاص کام تجویز کر لیا جائے۔ہمارے ملک میں ایک مرض یہ بھی ہے کہ جب کوئی انجمن قائم کی جاتی ہے تو اس کے پروگرام میں دنیا کے تمام کام داخل کر لئے جاتے ہیں اور ایک مہا جال تیار کر لیا جاتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایک کام بھی وہ بخوبی سر انجام نہیں دے سکتی۔اگر الگ الگ انجمنیں ہوں اور وہ آپس میں کام تقسیم کر لیں۔ایک کا کام تعلیم کے متعلق، دوسری کا کام تربیت کرنا، تیسری کا تبلیغ ہو اور اسی طرح چوتھی پانچویں چھٹی کے سپرد علیحدہ علیحدہ کام ہوں تو ہر ایک اپنا اپنا کام بخوبی سر انجام دے سکتی ہے۔لیکن اگر مختلف انجمنوں کے پروگرام میں ساری کی ساری باتیں داخل ہوں تو لازمی بات ہے کہ ان کا آپس میں ٹکراؤ ہو جائے۔اگر الگ الگ انجمنیں الگ الگ کام کریں تو کام بہت اچھا ہو سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس تقسیم عمل کے ساتھ ینگ میز احمد یہ ایسوسی ایشن بہت کام کر سکتی ہے۔مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنے پروگرام کو وسیع کرنے کی بجائے محدود کرے۔یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی پروگرام ہمیشہ کے لئے رکھا جائے۔جس طرح کام میں تبدیلیاں ہو سکتی ہیں اسی لحاظ سے پروگرام بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔اور سلسلہ کے لوگ بھی ایسے کام میں جو تقسیم عمل کے ماتحت ہوگا مدد دیں گے۔انجمنوں کا پروگرام کوئی شرعی قانون نہیں ہوتا کہ اسے بدلا نہ جا سکے۔اس لئے پہلے سے ہی مہا حال بنانے کی کیا ضرورت ہے۔پس اگر ینگ مینز احمد یہ ایسوسی ایشن ایک یا دو کام اپنے ذمہ لے لے اور