زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 60
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 60 60 ہمارے تمام کاموں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے تو کل پر ہونی چاہئے صدرا انجمن احمدیہ کے محرروں کی طرف سے محترم جناب خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب مبلغ انگلستان کے انگلستان سے واپس تشریف لانے پر ان کے اعزاز میں یکم مئی 1933ء کوئی پارٹی دی گئی جس میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی بھی تشریف لائے۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔میں قریباً دس دن کی بیماری کے بعد چونکہ آج گھر سے نکلا ہوں اس لئے کرسی پر بیٹھنا بھی میرے لئے ایک حد تک تکلیف کا موجب ہوا ہے۔لیکن جس تقریب کے لئے آج ہم بلائے گئے ہیں وہ اس قسم کی ہے کہ اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں خاموش بھی نہیں رہ سکتا۔سب سے پہلے تو میں اس بات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ میں نہیں جانتا کن وجوہ سے، بہر حال واقعات یہ ہیں کہ خانصاحب کے آنے پر جیسا کہ عام دستور چلا آتا ہے ٹی پارٹیاں ہونی چاہئے تھیں مگر نہیں ہوئیں۔اس وجہ سے میری طبیعت پر یہ اثر تھا کہ شاید درد صاحب کے جانے پر جو خطبات میں نے پڑھے ان کی وجہ سے بعض لوگوں میں ایک قسم کا خوف پیدا ہو گیا ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم اس میں حصہ لیں تو شاید پرانے سلسلہ میں کوئی ایسی بات پیدا ہو جائے جو ان کے لئے مضر ہو۔گو میں سمجھتا ہوں میرا یہ خیال درست نہیں کی تھا۔کیونکہ آج ہی مجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ بعض اور دوست بھی خانصاحب کو دعوت دینا کی چاہتے ہیں مگر چونکہ میرے دل میں یہ خیال پیدا ہو چکا تھا اس لئے جب مجھے اس ٹی پارٹی کی خبر پہنچی تو خاص طور پر خوشی ہوئی۔لیکن ساتھ ہی ایک چیز تھی جس نے میرے دل پر برا اثر جلد دوم