زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 58
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 58 جلد دوم جوابی رنگ میں بعض اوقات مارنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے شریف سے شریف انسان کو بھی مجبور دس پندرہ منٹ پاخانہ میں بیٹھنا پڑتا ہے لیکن کون ایسا احمق ہے جو شوقیہ طور پر وہاں جا کر بیٹھے۔پس ان باتوں میں نہ پڑو۔ہاں اگر دشمن ایسے رنگ میں اعتراض کرے اور کسی طرح پیچھا نہ چھوڑے تو اور بات ہے۔وگرنہ سادہ باتیں اور عام فہم دلائل پیش کرو۔یہی گر ہے جس سے نبی کامیاب ہوئے۔فلسفہ نے دنیا میں کوئی جماعت پیدا نہیں کی۔ارسطو کی دنیا میں کوئی جماعت نہیں مگر موٹی و ابراہیم کی ہیں۔جماعت ہمیشہ وہی بنا سکتے ہیں جو خدا کی قدرت پر بنیادیں رکھتے ہیں۔ارد گرد کے دیہات میں عام طور پر یہ بھی احساس ہے کہ ہم ان کے دشمن ہیں۔ان کی اس غلط فہمی کو دور کرو اور بتاؤ کہ ہمارے دل میں تو ماں باپ سے بھی زیادہ محبت ہے۔یہ ذریعہ ہے جس سے تم کامیاب ہو سکتے ہو۔اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں۔سب اس میں شریک ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نے فرائض ادا کرنے کی توفیق دے اور تبلیغ کے نیک نتائج پیدا کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام کرشن بھی ہے اور آپ کا ایک الہام ہے کہ ہے کرشن رو در گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔5 حضرت کرشن نے بھی آپ کے متعلق پیشگوئی کی ہے، باوا نا نک علیہ الرحمۃ نے بھی کی ہے۔آپ کو گئو پال کہا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی جماعت گائے کی طرح ہو گی۔جس طرح گائے اپنے مالک کے تھان پر کھڑی رہتی ہے، تھوڑے چارہ پر قناعت کرتی اور دودھ دیتی ہے، عمدہ نسل کے بچے پیدا کرتی ہے، ایسے ہی آپ کی جماعت بھی ہوگی۔پس ممکن ہے بعض لوگ مدیح کا ذکر کریں لیکن انہیں بتاؤ کہ ہم تو گئو پال ہیں اور ان تمام انسانوں کو جو گوؤں کی طرح کے ہوں اپنے اندر لیتے ہیں اور کی دوسروں کے ساتھ بھی ہمارا سلوک گئوؤں کی طرح کا ہی ہے۔ہاں اگر کوئی شیر کی طرح حملہ کرے تو اس کا جواب تو دینا ہی پڑتا ہے۔پس جاؤ اور اس الہام کو پورا کرنے کے لئے