زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 57
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 57 جلد دوم اور ان کے لئے اس کے مفید ہونے کی یہ کافی دلیل ہے۔اب تک بعض ڈاکٹر اس کے مخالف ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ سب کمزوریاں اور بیماریاں اس سے پیدا ہوتی ہیں۔مگر یہ جو ہے تذبذب کی حالت ہے یہ ایک زمیندار میں نہیں ہوتی۔مضرت اس کی آنکھوں سے مخفی - وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ کرانے والوں کو فائدہ ہوا ہے۔یا لوگ کو نین کھاتے ہیں مگر ہر ایک یہ کہاں جانتا ہے کہ یہ بخار کو کس طرح جا کر روکتی ہے۔عام آدمیوں کو ان باتوں سے کی تعلق نہیں ہوتا وہ اتنا جانتے ہیں کہ اس سے فائدہ ہوتا ہے۔اور اصل دلیل یہی ہے اس لئے اسے پیش کرو اور بتاؤ کہ اسلام زندہ مذہب ہے۔تمہارے ہی علاقہ میں ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ہمکلام ہوتا ہے۔لوگوں نے مل کر اس کی مخالفتیں کیں۔وہ سمجھتے تھے کہ اسے تباہ کر دیں گے مگر آخر وہ خود هَبَاءَ مَّنثُورًا ہو گئے لیکن اسے اللہ تعالیٰ نے ترقی دی۔وہ بڑھا ، پھولا اور پھلا۔دنیا کے کناروں سے اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس کے پاس لایا ، بڑوں کو بھی اور چھوٹوں کو بھی ، عالموں کو بھی اور جاہلوں کو بھی۔غور کرو یہ کیا چیز ہے۔تمہارے بھی آخر بزرگ ہوئے ہیں۔پنڈت دیانند صاحب کو ہی لے لو اور دیکھو کہ مذہبی لحاظ سے ان کے ماننے والے کم ہو رہے ہیں یا بڑھ رہے ہیں۔حالانکہ شروع میں ہی راجے اور مہاراجے ان کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے والوں کی تعداد کئی سال تک چند سو سے نہ بڑھ سکی مگر پھر بھی دیکھو اللہ تعالیٰ انہیں کس طرح ترقی دے رہا ہے۔پھر انہیں یہ بتاؤ کہ یہ مت خیال کرو ہم پڑھے لکھے نہیں۔ہر ایک کے لئے اللہ تعالیٰ سے ملنے کا رستہ کھلا ہے۔غرضیکہ ایک طرف انہیں امید کا پیغام دو اور دوسری طرف خوف کا۔انہیں سمجھاؤ کہ جب تک کوئی نبی مبعوث نہ ہو اُس وقت تک اور بات ہوتی ہے لیکن جب نقارہ بج جائے تو گھر میں بیٹھنے والا مستوجب سزا ہوتا ہے۔باقی تناسخ وغیرہ مسائل پر بخشیں کرنا یہ سود ڈھکوسلے ہیں۔خواہ ہمارا مولوی کرے یا ان کا۔ہم بھی بے شک ایسا کرتے ہیں مگر اسی کی طرح جس طرح پتھر مارنے والوں کو جواب دیا جاتا ہے۔پتھر مارنا شرفاء کا شیوہ نہیں مگر