زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 56

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 56 جلد دوم کہ اس طرح ان کے دل میں خشیت پیدا کرو اور انہیں یہ بھی بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے انبیاء مبعوث کرتا رہا ہے اور ان کے ذریعہ ہی دنیا کو ترقی دیتا رہا ہے اور دنیا کی ترقی ایک ہی دین پر قائم ہونے سے ہو سکتی ہے۔لڑائیاں جھگڑے سب لوگوں نے خود پیدا کئے اور یہ اپنی وجہ سے ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔یہی باتیں ہیں جو قرآن شریف پیش کرتا ہی ہے اور جو مفید ہوسکتی ہیں۔باقی رہا یہ کہ دنیا کو خدا نے کس طرح پیدا کیا اور کس چیز سے پیدا کیا ؟ یہ فضول باتیں ہیں۔بیٹے سے محبت کرنے کے لئے کوئی شخص اس کا جگر تلی نہیں دیکھا کرتا۔جو چیز دیکھنی چاہئے وہ یہی ہے کہ خدا کا ہاتھ نظر آتا ہے، اسے پکڑ لو۔دلیل کے وقت ان کے سامنے تازہ نشانات اور سادہ عام فہم باتیں پیش کرو۔اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی عقل کے مطابق اس کے لئے نشان رکھے ہیں۔ایک فلسفی نے کسی بزرگ سے دریافت کیا کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا فلسفہ اتنا باریک ہے کہ فلسفی بھی اسے نہیں سمجھ سکتے پھر زمیندار لوگ اسے کس طرح مان لیتے ہیں۔بزرگ نے کہا کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت ہر شخص کو اپنے فہم کے مطابق مل جاتے ہیں۔کوئی بدوی پاس سے گزر رہا تھا۔اس سے اس نے دریافت کیا کہ تم خدا کو کیوں مانتے ہو؟ اس نے کہا کہ جنگل میں اگر کوئی لینڈ نا پڑا ہو تو اسے دیکھ کر ہم سمجھ لیتے ہیں کہ کوئی اونٹ ادھر سے گزرا ہے تو اس قدر عظیم الشان کارخانہ بغیر کسی خالق کے کیونکر ہو گیا۔غرض اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سادہ دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے۔پس تم بھی تفصیلات اور فلسفیانہ باتوں کے بیچ میں نہ پڑو کیونکہ ان سے نکلنے کا نہ تمہیں رستہ ملے گا اور نہ انہیں۔اصل چیز یہ ہے کہ ہمارے پاس زندہ خدا ہے جو ہمیشہ قائم رہنے والا ، زندہ رکھنے والا، خالق مالک ہے۔اس کے تازہ نشانات ہم روز دیکھ رہے ہیں اور ان باتوں کے ہوتے ہوئے ہمیں اس بیچ میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے کہ خدا کس طرح ہے۔اس کی کیا صورت ہے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ زمیندار لوگ چیچک کا ٹیکا کراتے ہیں حالانکہ وہ اس بات کو قطعاً نہیں سمجھ سکتے کہ نشتر مارنے سے چیچک کس طرح رک جاتی ہے۔وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ جن لوگوں نے یہ ٹیکا کر ایاوہ اس سے محفوظ ر