زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 55
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 55 جلد دوم اور جو کبھی ملتی نہیں ، جس کی قوتوں کی کوئی حد بندی نہیں۔اور دوسری طرف ہر ذرہ یہ بتا رہا ہے کہ ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔یہ دونوں متوازی سلسلے ہر جگہ دنیا میں نظر آتے ہیں۔ایک طرف ہم آنکھ کو دیکھتے ہیں کہ اس کی حفاظت کیلئے قدرت نے کیا کیا سامان رکھتے ہیں۔ابرو ہیں جو چوٹ وغیرہ سے حفاظت کرتے ہیں۔پلکیں ہیں تا بار یک گردو غبار کو اندر جانے سے روک دیں۔پھر اسے گیلا رکھنے کے لئے قدرت نے ایسی غدود میں رکھی ہیں تا آنکھ خشک نہ ہو۔ایک زمینداران تفاصیل کو نہیں جانتا۔لیکن جب آنکھ خشک ہوتی ہے وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس میں خرابی پیدا ہو گئی۔یہ تو عام باتیں ہیں لیکن ڈاکٹروں سے پوچھو تو وہ کیا کیا پردے اور بار یک باتیں آنکھ کے متعلق بتائیں گے۔گویا معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوت ہی قوت ہے۔دوسری طرف یہ حال ہے کہ ایک شخص جنگل میں جا رہا ہے کوئی سرکنڈا لگا اور آنکھ نکل گئی۔یا کھیل میں چوٹ لگی تو آنکھ بیٹھ گئی کوئی چیز پڑ گئی تو روشنی جاتی رہی۔پھولا بن گیا۔اب غور کرو کہ ایک طرف تو سینکڑوں فلسفی لگے ہیں مگر آنکھ کے معارف ختم نہیں ہوتے۔دوسری طرف انگوٹھا لگا اور آنکھ باہر۔گویا کمزوری اتنی کہ کوئی طاقت اس میں ہے ہی نہیں اور یہی حال ہر ذرہ کا ہے۔ایک طرف طاقت ہی طاقت اور دوسری طرف کمزوری ہی کمزوری۔اور یہ سب باتیں کیا ظاہر کرتی ہیں؟ یہی کہ تم کچھ نہیں خدا سب کچھ ہے۔پس جن کے پاس تبلیغ کے لئے جاؤ انہیں یہ آسان باتیں بتا کر ان کے دل میں خشیت پیدا کرو اور بتاؤ کہ انسان خدا کی مدد کے بغیر کچھ نہیں اور پھر انہیں بتاؤ کہ اسلام کے ذریعہ ہی تم خدا کو پاسکتے ہو۔اگر کوئی کہے کہ ہمارے مذہب میں سچائی ہے تو اسے بتاؤ کہ بے شک ہے مگر اسلام میں زیادہ ہے۔بجائے اس کے کہ اسے کہو تیرا مذ ہب جھوٹا ہے، اس کی تائید کر کے اسلام کی فضیلت اس کے ذہن نشین کرو۔اگر جھوٹا کہو گے تو وہ کہہ دے گا کہ سارے ہی ڈھکو سلے ہیں۔اور اگر کہو کہ سچائی ضرور ہے تو رستہ آسان ہو جائے گا۔قرآن کریم نے یہی طریق اختیار کیا ہے۔عیسائی کہتے ہیں کہ سب نبی چور اور بیمار ہیں۔لیکن قرآن بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر امت میں نبی بھیجے ہیں 3 جو سب خدا کے پیارے ہیں۔پس چاہئے