زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 51
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 51 جلد دوم دے اور بد ترین طریق گالیاں دینا اور مار پیٹ پر اتر آنا ہے۔ایسے لوگ جب دلائل سے عاجز آ جاتے ہیں تو یا تو گالیاں دینے اور مارنے پیٹنے پر اتر آتے ہیں اور یا پھر پیچیدہ اصطلاحات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔جن کے معنی وہ نہ خود سمجھتے ہیں اور نہ دوسرے کی سمجھ میں آتے ہیں۔اور یہ حال ہندو، مسلمان، سکھ سب کا ہے۔جب وہ دیکھتے ہیں کہ دلیل سے نہیں چل سکتے تو اصطلاحات کے چکر میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔مسلمان کو جب دلیل نہ آئے گی تو جھٹ کہہ دے گا اچھا بتاؤ نماز کے واجبات کتنے ہیں۔حالانکہ ہر شخص روز نماز پڑھتا ہے اور خوب جانتا ہے کہ کس طرح پڑھنی چاہئے۔اسے اس کی کیا ضرورت ہے کہ واجبات معلوم کرتا پھرے۔اور اگر وہ بتا بھی دے تو کیا ضروری ہے کہ وہ اسے صحیح بھی مان لیں۔انہوں نے تو اپنے ڈھکوسلوں کی ایک فرضی لسٹ بنا رکھی ہوتی ہے مگر دوسرا ان بیہودگیوں میں نہیں پڑتا۔اس نے گن کر نہیں رکھے ہوتے یا یا د بھی ہیں مگر بیان کرتے وقت کوئی رہ گیا تو جھٹ کہہ دیں گے کہ دیکھو اسے اتنا بھی معلوم نہیں۔یہ تو ظاہری علوم والوں کا حال ہے۔جو لوگ علماء کہلاتے ہیں وہ زیر زبر کا جھگڑا چھیڑ دیں گے حالانکہ ہزار ہا لوگ قرآن کریم کو خوب سمجھتے ہیں مگر وہ زیر زبر کے صحیح استعمال کو نہیں جانتے۔بس اس پر وہ کہہ دیں گے کہ یہ جاہل ہے۔پھر صوفیاء ہیں وہ جب دلیل سے عاجز آجائیں گے تو کہیں گے بتا ؤ لقاء کیا ہے؟ آپ مذہبی باتیں تو خوب کرتے ہیں کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ لاہوت اور ناسوت کیا ہیں اور پھر قہقہہ لگائیں گے کہ دیکھو یہ ابتدائی باتوں سے بھی واقف نہیں حالانکہ ان باتوں کا روحانیات سے کوئی تعلق نہیں۔یہ خود ساختہ باتیں ہیں۔جیسے ایک تماشہ گر، نٹ نے بعض باتیں یاد کر رکھی ہوتی ہیں اور ان کے ذریعہ دوسروں سے پیسے وصول کرتا ہے۔اس کے ہاتھ میں دیکھنے والے پیسہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ خالی ہوتا ہے۔یا لوگ سمجھتے ہیں کہ ہاتھ خالی ہے مگر پیسہ موجود ہوتا ہے۔حقیقت میں اس کی باتیں اور حرکات ہی پیسہ کو لانے اور لے جانے کا بہانہ ہوتی ہیں اور انہی سے وہ دوسروں کو دھوکا میں ڈال کر اپنا کام کرتا ہے۔بعینہ اسی طرح لاہوت ناسوت اور فرائض و واجبات :