زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 47

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 47 جلد دوم کر نہیں بلکہ غلطی سے لکھا ہے لیکن چونکہ وہ قابل اصلاح ہے اس لئے میرا فرض ہے کہ میں اس کی اصلاح کروں۔بلکہ اس سے پہلے بھی میری خواہش تھی کہ جب کبھی موقع ملے اس بات کی اصلاح کروں۔اب چونکہ ایسا موقع میسر آ گیا ہے اس لئے میں اس کی اصلاح ضروری سمجھتا ہوں۔وہ فقرہ اس رنگ کا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور خلیفہ کی دعاؤں سے ایسا ہوا۔یعنی خدا کے فضل کے ساتھ خلیفہ کی دعاؤں کو شریک بنایا گیا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کسی خدا کے بندے کو شریک کرنا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ یہ شرک ہے۔یہ تو کی کہا جا سکتا ہے کہ خلیفہ کی دعاؤں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوا۔لیکن جس فقرہ کا میں ذکر کر رہا ہوں اس میں خلیفہ کی دعاؤں کو خدا کے فضل کے برابر قرار دیا گیا ہے۔حالانکہ ہر کام خدا کے فضل کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔رسول کریم ﷺ کی مجالس میں بھی بعض لوگوں نے اس قسم کے فقرے کہے تو آپ نے اصلاح فرما دی۔اور فرمایا اللہ کے ساتھ ہمارا ذکر مت کرو۔ہاں دعاؤں کے ساتھ خدا کا فضل نازل ہوتا ہے۔میں جانتا ہوں کہ لکھنے والے کے دل میں یہ خیالات نہ تھے لیکن میرا بحیثیت خلیفہ فرض ہے کہ اس غلطی کی طرف توجہ دلاؤں۔الله جدائی پر رنج دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جدائی پر رنج ایک طبعی امر ہے۔آنحضرت ﷺ کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم جب فوت ہوئے تو حضور کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو گئے۔اس پر صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ تو ہمیشہ ہمیں صبر کی تعلیم دیا کرتے ہیں مگر آج آپ کی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ رہے ہیں۔اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایسے موقع پر آنسوؤں کا جاری ہونا ایک طبعی امر ہے۔1 پس وہ جو جدائی کا احساس نہیں رکھتا طبعی جذبات سے خالی ہے۔جس کا فقدان سنگ دلی کی علامت ہے۔صبر سنگدلی کا نام نہیں بلکہ جزع فزع سے اپنے آپ کو روکنے کا نام ہے۔,, مومن اور غیر مومن کی جدائی پھر فرمایا۔جدائی دو قسم کی ہوتی ہے ایک مومن کی اور ایک غیر مومن کی۔غیر مومن کو