زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 48
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 48 جلد دوم جدائی میں تاریکی ہی تاریکی نظر آتی ہے اور وہ اپنے ساتھ حسرتیں لے جاتا ہے۔برخلاف اس کے مومن جدائی میں بھی اپنے ساتھ بہت سی خوشیاں رکھتا ہے۔مثال کے طور پر دیکھو ایک سپاہی جو اپنے ملک کی خاطر لڑتا ہے اسے میدان جنگ میں جب گولی لگتی ہے تو اسے سوائے تاریکی کے اور کیا نظر آتا ہے۔وہ ملک یا قوم جس کی خاطر وہ لڑا تھا وہ ابھی آزاد نہیں ہوتی۔عزیز واقارب سے وہ علیحدہ ہو گیا۔لیکن اسے نہیں معلوم کہ بعد میں ان سے کیا معاملہ ہونے والا ہے نہ ہی اسے اپنے متعلق علم ہوتا ہے کہ مستقبل میں اس کا کیا حشر ہوگا۔غرضیکہ اسے تسلی دینے والی کوئی چیز نہیں ہوتی اور چاروں طرف اس کے لئے تاریکی ہی تاریکی ہوتی ہے اور اس طرح وہ بے حد حسرتوں کے ساتھ جان دیتا ہے۔لیکن ایک مومن جو جہاد میں اس لئے جاتا ہے کہ وہ خدا کے دین کی حفاظت کرے اسے جب موت آتی ہے تو اس کے لئے اپنے محبوب حقیقی سے ملنے کا راستہ کھول دیتی ہے۔بے شک وہ اپنے عزیز و اقارب سے جدا ہوتا ہے لیکن وہ اس یقین کے ساتھ جدا ہوتا ہے کہ وہ انبیاء سے ملنے والا ہے جو ان اعزاء سے بہت بہتر رفیق ہیں۔پھر وہ سمجھتا ہے کہ جدائی عارضی ہے تھوڑے دنوں کے بعد وہ اعزاء بھی اس کے ساتھ آ ملیں گے۔وہ جانتا ہے کہ موت اس کی کے لئے اس دنیا سے بہتر گھر کا دروازہ کھولنے والی ہے اس لئے مومن کی جدائی میں بھی ایک خوشی ہوتی ہے جو دوسروں کی جدائی میں نہیں ہوتی۔مومن کے دنیا وی صدمے دنیاوی جدائیوں اور صدموں پر بھی مومن خیال کرتا ہے کہ قرآن کہتا ہے وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ 2 که مومن ایسے موقع پر صبر کرتا ہے کیونکہ خدا کا وعدہ ہے کہ اگر تم کسی چیز کی جدائی کے غم پر صبر کرو گے تو اس سے بہتر چیز ملے گی۔پس دنیا کی جدائی میں بھی ایک اور سامانِ راحت پیدا کیا جاتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ صادق الوعد اور کون ہو سکتا ہے۔چونکہ خدا نے مومن کی کامیابی کے دروازے کھول رکھے ہوتے ہیں اس لئے وہ کسی بات سے گھبراتا نہیں۔ہر رنج اور تکلیف کو اپنے لئے بہتر خیال کرتا ہے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے