زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 46
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 46 جلد دوم محترم خان صاحب منشی برکت علی صاحب کی الوداعی دعوت 6 مارچ 1932ء کو جماعت احمد یہ شملہ ودہلی نے محترم جناب خان صاحب منشی برکت علی صاحب کو جو ایک لمبی اور قابل تعریف ملازمت کے بعد پنشن پر جا رہے تھے رتالکٹورہ پارک میں ایک شاندار گارڈن پارٹی دی جس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بھی شمولیت فرمائی۔اور ایک نسخہ قرآن کریم جماعت کی طرف سے اپنے مبارک ہاتھوں سے خان صاحب کو عطا فر مایا۔اس موقع پر حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جو مختصر خطاب فرمایا اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:۔قادیان میں اس قسم کی دعوتوں پر میں عموماً تقریر کیا کرتا ہوں کیونکہ وہاں میری حیثیت میزبان کی ہوتی ہے اور ہر جانے والے کو الوداع اور آنے والے کو خیر مقدم کہہ سکتا ہوں۔لیکن یہاں بوجہ مختصر قیام کے میں خود مہمان کی حیثیت رکھتا ہوں اس لئے میں نہیں سمجھتا میں کن جذبات کا اظہار کروں۔آپ لوگ خان صاحب سے جدا ہور ہے ہیں اور جدائی کو محسوس کر رہے ہیں لیکن آپ سے جدا ہو کر خانصاحب میرے پاس قادیان آ رہے ہیں۔اس لئے نہ تو میں ان کو الوداع کہہ سکتا ہوں اور نہ جدائی کے متعلق وہ جذبات میرے اندر پیدا ہو سکتے ہیں جو آپ لوگوں کے دلوں میں ہیں۔میرے اندر تو اس وقت خوشی کے جذبات ہیں اور باوجود آپ کے رنج کے مجھے خوش ہونا چاہئے۔لیکن چونکہ دوستوں کی خواہش ہے اس لئے کچھ بیان کرتا ہوں۔ایک غلطی کی اصلاح پہلی بات ایڈریس کے ایک فقرہ کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔اگر چہ میں جانتا ہوں کہ لکھنے والے نے جان بوجھ