زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 44

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 44 جلد دوم اپنی تمام کمزوریوں اور نقائص کے باوجود یا درکھو کہ خدا تعالیٰ نے تم سے کام لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اور تمہارا فرض قرار دے دیا ہے کہ اسلام کو دنیا میں غالب کرو۔اس وقت اسلام اگر چہ کمزور ہے مگر تم جو ایک معمولی سے گاؤں کے سکول میں پڑھنے والے اور ایک معمولی حیثیت کے گاؤں میں رہنے والے ہو، غریب والدین کے بچے ہو، ادنی درجہ کے بورڈنگ میں اقامت رکھتے ہو۔یادرکھو کہ تمہارے ذمہ خدا تعالیٰ نے عظیم الشان کام لگایا ہے۔اور جب وہ کسی کے ذمہ کوئی کام لگاتا ہے تو اسے پورا کرنے کی توفیق خود ہی عطا فر ما دیتا ہے۔پس یہ خیال مت کرو کہ تم میں اہلیت نہیں ہے۔ضرور ہے۔اور اگر اس ارادہ کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ تو روزانہ ایسے سامان پیدا ہو جائیں گے جو تمہیں غالب کر دیں۔تمہارے ماں باپ تمہیں بتا سکیں گے کہ احمدیت ابتدا میں کیسی کمزور تھی۔حتی کہ 1914ء میں جب خلافت میرے سپرد ہوئی تو خزانہ میں صرف چند آنے تھے اور کئی ہزار قرضہ تھا۔اور جماعت میں سے مخالفین کے قول کے مطابق تو ننانوے فیصدی خلاف تھے۔لیکن نوے تو بہر حال تھے۔لیکن باوجود ان حالات کے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس قدر ترقی دی کہ اُس وقت ایک بھی مبلغ باہر نہ تھا مگر آج ساری دنیا میں ہمارے مبلغ ہیں اور کوئی براعظم ایسا نہیں جہاں احمدی مبلغ نہ پہنچ چکے ہوں۔انگلستان، امریکہ ، جاوا، سماٹرا، افریقہ، گولڈ کوسٹ، نائیجیریا، ٹرینیڈاڈ ، آسٹریلیا وغیرہ ہر جگہ ہمارے مشن قائم ہو چکے ہیں اور یہ سب کچھ 17 سال کے قلیل عرصہ میں ہوا۔آج سے 17 سال قبل اس مدرسہ کی طرف اشارہ کر کے کسی نے کہا تھا کہ جماعت نے ایک بچہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے اس لئے تھوڑے ہی عرصہ میں اس سکول پر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔لیکن آج یہ حالت ہے کہ اس میں پڑھنے والے عیسائیوں کو مسلمان بنا رہے ہیں اور عیسائیت کو کچلنے والے اس سکول سے پیدا ہورہے ہیں۔پس میں طلباء کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم سے پہلوں نے جو کام کیا تم اس سے بہتر کر سکتے ہو کیونکہ ان کا علم اور تجربہ بھی تمہاری راہنمائی کے لئے موجود ہے اور اس وجہ سے جو کچھ