زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 43

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 43 جلد دوم بہر حال احمدیوں کا ہی پس خوردہ تھا۔تو یہ کیا چیز تھی جس نے عبد القادر کے سامنے مجھ سے اتنا بڑا دعوی کرا دیا ؟ یہ وہی مشاہدہ والا یقین تھا جو قادیان میں ہی حاصل ہو سکتا ہے۔یہاں کے درودیوار اور ہر ایک اینٹ نشان ہے۔ایک زمانہ تھا کہ یہاں احمدیوں کو مسجدوں میں نہیں جانے دیا جاتا تھا۔مسجد کا دروازہ بند کر دیا گیا۔چوک میں کیلے گاڑ دیئے گئے تا نماز پڑھنے کے لئے جانے والے گریں۔اور کنویں سے پانی نہیں بھرنے دیا جاتا تھا۔بلکہ یہاں تک سختی کی جاتی تھی کہ کمہاروں کو ممانعت کر دی گئی تھی کہ احمدیوں کو برتن بھی نہ دیں۔ایک زمانہ میں یہ ساری مشکلات تھیں۔مگر اب وہ لوگ کہاں ہیں؟ ان کی اولادیں احمدی ہوگئی ہیں اور وہی لوگ جنہوں نے احمدیت کو مٹانے کی کوشش کی ان کی اولادیں اسے پھیلانے میں مصروف ہیں۔غرضیکہ یہاں کی ایک ایک چیز خدا تعالیٰ کا نشان ہے۔یہی مدرسہ جس جگہ واقعہ ہے یہاں پرانی روایات کے مطابق جن رہا کرتے تھے اور کوئی شخص دو پہر کے وقت بھی اس راستہ سے اکیلا نہ گزر سکتا تھا۔اب دیکھو وہ جن کس طرح بھاگے ہیں۔یہاں کی ایک ایک اینٹ اللہ تعالیٰ کا نشان ہے اور اس کی تاریخ معلوم کر کے پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام کس طرح پورا ہوا۔مجھے یاد ہے اسی میدان سے جاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا ایک رؤیا سنایا تھا کہ قادیان بیاس تک پھیلا ہوا ہے اور مشرق کی طرف بھی بہت دور تک اس کی آبادی چلی گئی ہے۔اُس وقت صرف یہاں آٹھ دس گھر احمدیوں کے تھے اور وہ بھی بہت تنگدست، باقی سب بطور مہمان آتے تھے۔لیکن اب دیکھو خدا تعالیٰ نے کس قدر ترقی اسے دی ہے۔پس اپنے دنوں سے فائدہ اٹھاؤ۔کیونکہ بڑے ہو کر تم پر بہت بڑی ذمہ داری عائدہ ہونے والی ہے۔تم نے دنیا کو فتح کرنا ہے۔اپنے متعلق یہ خیال مت کرو کہ تم بچے ہو یا کمزور ہو، مال میں یا علم میں دوسروں سے پیچھے ہو۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے تمہارے سپرد ایک کام کیا ہے۔اور جسے وہ کام سپرد کرتا ہے اسے طاقتیں بھی خود ہی دے دیتا ہے۔پس