زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 42

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 42 جلد دوم ہے یہ میٹھی ہے تو اس کا مشاہدہ غلط سمجھا جائے گا۔لیکن خدا تعالیٰ کے ہم کلام ہونے کے مشاہدات اس کثرت سے ہیں کہ ان کا انکار نہیں ہو سکتا۔حضرت ابراہیم ، حضرت نوح ، حضرت موسی ، حضرت عیسی اور حضرت محمد مصطفی یہ سب اس امر کا مشاہدہ کرتے آئے ہیں اور اب ہمارے زمانہ میں ہی ایک شخص نے اس کی آواز کو سنا۔ہم نے اس کی بیعت کی اور اس طرح ہزاروں انسانوں نے خود اس آواز کو سنا۔اب اگر ساری دنیا بھی کہے کہ خدا ہم کلام نہیں ہوسکتا تو ہم کہیں گے سب پاگل ہیں کیونکہ جو کہتے ہیں ہمارے مشاہدہ کے خلاف کہہ رہے ہیں۔اور یہ وہ چیز ہے جو باہر کسی اور جگہ حاصل نہیں ہو سکتی۔اور یہی ایک ایسی دلیل ہے جس میں کسی قسم کا شک نہیں ہوسکتا۔کیونکہ انسان دلائل سے غالب نہیں آسکتا بلکہ یقین سے غالب آتا ہے جو قادیان میں پیدا ہوتا ہے۔میں جب شام میں گیا تو وہاں کے ایک مشہور عالم عبد القادر جو بلا د عر بیہ میں اچھی شہرت رکھتے ہیں ملنے کے لئے آئے۔انہیں زبان عربی پر اس قدر عبور کا دعوی ہے کہ اپنے آپ کو عربی زبان کا مجدد سمجھتے ہیں۔میں نے ان سے کہا مذہبی تحقیقات ہر شخص کا فرض ہے۔انہوں نے جواب میں کہا کہ میں آپ لوگوں کی خدمات کا معترف ہوں لیکن مرزا صاحب کی کتابیں غلطیوں سے پر ہیں۔ان سے عیسائیوں پر تو رعب ڈالا جا سکتا ہے لیکن مسلمانوں پر نہیں۔ان میں مرزا صاحب سے زیادہ جید عالم موجود ہیں۔آپ اپنی توجہ یورپ کی طرف ہی رکھیے یہاں آپ کو کامیابی نہیں ہو سکتی۔میں نے جواب میں کہا کہ آپ نے یہ اتنا بڑا دعویٰ کر دیا ہے جس کے لئے آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔اوّل تو یہ ہے کہ ظاہری طور پر آپ غلطیاں پیش کریں۔اور دوسری بات جو آپ نے کہی ہے اس کے متعلق یادر کھیئے کہ میں یہاں سے جاتے ہی مبلغ بھیجوں گا اور نہیں چھوڑوں گا جب تک اس علاقہ میں جماعتیں قائم نہ ہو جائیں۔چنانچہ میں نے واپس آتے ہی مبلغ بھیجا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے فلسطین و شام میں جماعتیں قائم ہو گئیں۔اور اسی عبد القادر نے لا چار ہو کر لاہوری احمدیوں سے دلائل منگوا کر ہمارا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔اور یہ