زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 41
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 41 جلد دوم خدا ہے۔یا یہ کہ کوئی خدا ہونا چاہئے۔لیکن یہ سارے شکوک کے مقام ہیں۔کیونکہ ” ہونا چاہئے کے بھی یہ معنی نہیں کہ ضرور ہو۔ایک چیز کی ضرورت ہو سکتی ہے مگر وہ نہیں ہوتی۔تو میرا مقصد یہ ہے کہ دلائل شکوک پیدا کر سکتے ہیں یقین نہیں۔یقین صرف مشاہدہ سے ہی پیدا ہوتا ہے۔اگر چہ بعض اوقات اس میں بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر عام طور پر اس کے اندر اتنا ثبوت ہوتا ہے کہ انسان قطعی فیصلہ کر سکتا ہے۔ایک شخص ہے اسے ہم آنکھ سے دیکھتے ہیں۔اب اگر دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ نہیں تو ہم اسے وہم کہیں گے کیونکہ آنکھ کہہ رہی ہے کہ وہ موجود ہے۔اگر چہ بعض دفعہ ایسی بیماری بھی ہو جاتی ہے کہ انسان ایک چیز کو دیکھتا ہے مگر وہ نہیں ہوتی۔مگر وہ علیحدہ صورت ہے۔پس دلائل سے زیادہ جو چیز قادیان میں حاصل ہوسکتی ہے وہ مشاہدہ ہے۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک مامور کو مبعوث کیا اور اس کی صداقت کے لئے یہاں کئی مشاہدات موجود ہیں۔وہ لوگ جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ یاد ہے ان کے کانوں میں یہ آواز اب تک گونج رہی ہوگی کہ حضور بار ہا فرماتے۔اس میں تو شبہ ہو سکتا ہے کہ سورج ہے یا نہیں مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ خدا تعالیٰ بولتا ہے۔اور حضور کے فیض روحانی سے ہزاروں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے خود اس کا مشاہدہ کیا۔اپنی ذات میں اس کی قدرت کو دیکھا اور اس کے کلام کو سنا۔یورپ میں کئی لوگوں نے مجھ سے سوال کیا کہ یہ کس طرح مانا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ الفاظ میں الہام کرتا ہے؟ میں ان کو یہی جواب دیتا کہ نفی کے مدعی تم ہو۔مثبت والا تو دعوی کرتا ہے کہ فلاں چیز میرے پاس ہے۔تمہارا دعویٰ تو اس وجہ سے ہے کہ تمہارے پاس دلیل نہیں۔مگر میرے کانوں نے جب خود خدا تعالیٰ کے الفاظ سنے ہیں تو میں کیونکر اس میں شک کر سکتا ہوں۔تو میرا انشایہ ہے کہ جب ہم ایک بات کو مشاہدہ کر لیتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں تمام دنیا کے دلائل پیچ ہو جاتے ہیں۔سوائے اس کے کہ ساری دنیا کا مشاہدہ اس کے خلاف ہو۔مثلاً ایک چیز کو ساری دنیا کڑوا سمجھتی ہے اب اگر ایک شخص کہے کہ میں نے چکھ کر دیکھا